معاملہ قومی وقار کا، مودی پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں، خاموشی سرکاری ردعمل نہیں ہوسکتی، کانگریس

20 جولائی ، 2025

کراچی (نیوز ڈیسک) ٹرمپ کے دعوے پربھارتی اپوزیشن نے وزیرِ اعظم مودی اور بی جے پی کی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ کانگریس پارٹی نے ہفتے کو مطالبہ کیا کہ واقعی پانچ طیارے مار گرائے تو قومی وقار اور سلامتی کی خاطر حکومت کیوں صاف جواب نہیں دے رہی ، مودی پارلیمنٹ میں آکر بیان دیں ۔"ٹرمپ کا میزائل" 24ویں بار انہی دو پیغامات کیساتھ فائر کیا گیا ہے، خاموشی سرکاری ردعمل نہیں ہو سکتی۔لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیر اعظم کی "خاموشی" پر سوال اٹھایا اور ان سے اس دعوے کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مودی سچ بتائو،کیونکہ "ملک کو سچ جاننے کا حق ہے"۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا: "مودی جی، پانچ جیٹ طیاروں کی حقیقت کیا ہے؟ ملک کو جاننے کا حق ہے!"کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ "ٹرمپ کا میزائل" 24ویں بار اسی دو پیغامات کے ساتھ فائر کیا گیا ہے، پارلیمنٹ کے مانسون سیشن شروع ہونے سے صرف دو دن پہلے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکہ نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ روک دی۔ رمیش نے مزید کہا کہ "وزیر اعظم، جن کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ستمبر 2019 میں ʼہاؤڈی مودی اور فروری 2020 میں ʼنمستے ٹرمپ سے لے کر کئی سالوں کی دوستی اور ڈپلومیسی رہی ہے، انہیں اب خود پارلیمنٹ میں ایک واضح اور دوٹوک بیان دینا ہوگا کہ صدر ٹرمپ گزشتہ 70 دنوں سے کیا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لوک سبھا میں کانگریس کے وہپ، منیکاچم ٹیگور نے بھی ٹرمپ کے ریمارکس پر حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا، "ٹرمپ ʼتجارتی دباؤ کا استعمال کرتے ہوئے جوہری تنازعہ کو روکنے پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان ان کی تعریف کرتا ہے۔ انہوں نے نوبل انعام کی بھی تجویز دی ہے۔ تو پھر واقعی کیا ہوا؟ اور مودی ویرات موڈ میں کیوں ہیں؟"کانگریس لیڈر نے کہا، "اگر واقعی 5 جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے، جیسا کہ ٹرمپ کہتے ہیں، تو قوم کو جاننے کا حق ہے: کس نے جوابی کارروائی کی اجازت دی؟ امریکہ نے کیا کردار ادا کیا؟ کیا ہندوستان نے غیر ملکی دباؤ کے سامنے سر جھکا دیا؟" انہوں نے مزید کہا کہ خاموشی سرکاری ردعمل نہیں ہو سکتی۔مئی سے، ٹرمپ نے مختلف مواقع پر کم از کم 20 بار اپنے اس دعوے کو دہرایا ہے کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو "حل کرنے میں مدد کی" اور یہ کہ انہوں نے جوہری طاقت سے لیس جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک کو بتایا کہ اگر انہوں نے تنازعہ روکا تو امریکہ ان کے ساتھ "بہت تجارت" کرے گا۔ہندوستان نے مسلسل یہ مؤقف برقرار رکھا ہے کہ دونوں فریقوں نے 10 مئی کو اپنی افواج کے درمیان براہ راست بات چیت کے بعد، امریکہ کی کسی ثالثی کے بغیر، فائر بندی کے ساتھ اپنی فوجی کارروائیاں بند کر دیں۔