گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے1275ارب روپے کے قرض کی تقسیم

21 جولائی ، 2025

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے1275ارب روپے کے قرض کی تقسیم، حکومت تذبذب کا شکار؛ آئی پی پیز کو ادائیگیوں میں سی پیک بجلی گھروں کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے معاملے میں ایک نازک صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ ایک بار ختم کرنے کے لیے 18 کمرشل بینکوں سے حاصل کیے گئے 1275 ارب روپے کے قرض کو استعمال کرتے ہوئے ادائیگیوں کے وقت سی پیک کے تحت لگائے گئے چینی آئی پی پیز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جنہوں نے اپنے پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) پر نظر ثانی کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ پاور ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جو متعلقہ حکام کے لیے کھڑا ہو گیا ہے کہ جب ان آئی پی پیز کے واجبات ادا کیے جائیں گے جنہوں نے اپنے پاور پرچیز ایگریمنٹس میں ترمیم کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے، تو سی پیک کے تحت قائم بجلی گھروں کے ساتھ کیسے نمٹا جائے گا۔ سی پیک کے بجلی گھروں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ملک کی قیادت یہ محسوس کرتی ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ میں چین نے پاکستان کی بہت مدد کی ہے۔ سی پیک کے تحت نصب چینی بجلی گھروں کے واجبات 48 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جو حکومت پاکستان کو ادا کرنے ہیں۔ اس صورتحال نے حکومت کو آئی پی پیز کے درمیان رقم کی ادائیگیوں اور اس کے طریقہ کار پر مزید غور کرنے پر مجبور کیا ہے، اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے میں کچھ مزید دن لگ سکتے ہیں۔ تاہم، تمام رسمی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں اور اس سلسلے میں کوئی زیر التواء مسئلہ باقی نہیں ہے۔ اب تک، حکومت نے سرکاری پاور پلانٹس کے ایکویٹی پر منافع کو پاکستانی روپے کی بنیاد پر 13 فیصد تک کم کر دیا ہے اور امریکی ڈالر کی قیمت کو 168 روپے پر محدود کر دیا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان کی صلاحیت کی ادائیگیاں 100 فیصد سے کم ہو کر صرف 35 فیصد پر آ گئی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پلانٹس فعال رہیں۔ اس کے نتیجے میں فی یونٹ 0.44 روپے کی بچت ہوئی ہے۔