پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات، آنےوالے دن اہم

21 جولائی ، 2025

اسلام آباد (صالح ظافر) پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی اگلے 66 دنوں میں کوئی بھی سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، اور پاکستان اس صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ان دنوں بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کو رد نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان ایسے کسی بھی واقعے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔ اتوار کے روز اعلیٰ ذرائع نے یاد دلایا کہ بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی صد سالہ تقریبات 66 دن (25 ستمبر) دور ہیں۔ یہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مادر تنظیم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 25 ستمبر سے ٹھیک آٹھ دن پہلے 75 سال کے ہو جائیں گے، اور آر ایس ایس نے اپنی قیادت کی ریٹائرمنٹ کے لیے 75 سال کی عمر مقرر کر رکھی ہے۔ یہ مودی کی بطور وزیر اعظم دفتر میں آخری سالگرہ ہو سکتی ہے، کیونکہ آر ایس ایس کے رہنماؤں نے انہیں اس حوالے سے آر ایس ایس کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) سے آگاہ کر دیا ہے۔ اسی بنیاد پر، بھارت کے سابق وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی اور مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی کو گزشتہ سال کے بھارتی عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا۔ ذرائع نے اشارہ دیا کہ پاکستان بھارتی کارروائیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جن میں بھارتی فوج کی نقل و حرکت، دونوں ممالک کے درمیان ماحول کو مزید خراب کرنے کے لیے میڈیا کا غلط استعمال اور سفارتی شرارتیں شامل ہیں۔ سابق سیکرٹری خارجہ اور بھارت میں سفیر سہیل محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان-بھارت تعلقات بی جے پی کی اندرونی سیاست اور اس کے انتخابی حساب کتاب کے یرغمال بن چکے ہیں۔