اسپیکر کے پی اسمبلی کا چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ پر آئینی خلاف ورزی کا الزام

21 جولائی ، 2025

پشاور(ارشد عزیز ملک ) خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھ کر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر آئینی دائرہ کار سے تجاوز کا الزام لگایا ہے۔20 جولائی 2025 کو تحریر کردہ خط میں اسپیکر نے مؤقف اپنایا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے صوبائی اسمبلی کے اراکین کو حلف دلوانے کے حوالے سے آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے گورنر کو ہدایت دی، جو ان کے بقول مکمل طور پر غیر آئینی عمل ہے، اس سے صوبائی اسمبلی کی خودمختاری کو نقصان پہنچا۔خط میں کہا گیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکلز 130 اور 255 کے مطابق اسمبلی اراکین کو حلف دلوانا اسپیکر کا خصوصی اختیار ہے اور اس ضمن میں عدلیہ کا کوئی کردار نہیں۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ آرٹیکل 255(2) صرف اس صورت میں لاگو ہو سکتا ہے جب اسپیکر واقعی غیر حاضر یا دستیاب نہ ہو۔بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اجلاس ملتوی کرنے کی وجہ کورم کی کمی تھی جو ایک قانونی اور آئینی عمل ہے۔ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے اقدام کو ’’انتظامی احکامات کی آڑ میں عدالتی اختیارات کے صریح تجاوز‘‘ سے تعبیر کیا، جس سے ان کے مطابق صوبائی اسمبلی کی خودمختاری کو نقصان پہنچا اور آئینی اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن کو خطرہ لاحق ہوا۔خط میں مزید کہا گیا کہ اراکین اسمبلی کے حلف سے متعلق کوئی درخواست اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت نہیں تھی، بلکہ اس معاملے سے متعلق پٹیشن پہلے ہی 17 جولائی کو خارج کی جا چکی تھی۔