ہمارے انسپکٹر جنرل کے انفرااسٹرکچر میں بڑی تبدیلی آئی ہے،محبوب اسلم للہ

21 جولائی ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ ڈی آئی جی محبوب اسلم للہ نے کہا کہ ہمارے انسپکٹر جنرل نے انفراسٹرکچر میں بڑی تبدیلی آئی ہے لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ رویہ میں مزید تبدیلی کی ضرورت ہے چونکہ جس طرح 76 سالوں میں پولیس کو استعمال کیا گیا ہے وہ ڈیڑھ دو سالوں میں مکمل صحیح نہیں ہوسکتا۔محبوب اسلم جیو نیوز کے پروگرام ایک دن جیو کے ساتھ میں میزبان سہیل وڑائچ سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمارے پاس ایک نئی فورس بنی ہے سی این ایف جو اینٹی نارکوٹکس فورس تھی اس میں آرمی آفیسرز ہیں زیادہ تر تقریباً چار سو لوگ ٹرین ہو رہے ہیں اس میں سرونگ آفیسرز بھی ہیں اور لاہور میں انہیں اس سے بہتر کوئی سہولت نہیں ملی ہے مجموعی طور پر ہمارے پاس تقریباً 745 کا اسٹاف ہے اور ہماری کوارٹرلی پیسے دئیے جاتے ہیں فی ٹرینی کے حساب سے ہم نے کالج کی اپ گریڈیشن کے لیے آئی جی آفیس سے یا گورنمنٹ آف پنجاب سے ایک پیسہ نہیں لیا اپنی ریسورسیز کو بہتر مینج کرکے معاملات کو چلایا۔ محبوب اسلم کی اہلیہ نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ گھر کا باس ہمیشہ مرد کو ہی ہونا چاہیے انہوں نے مزید کہا کہ یہ دل کے بہت اچھے ہیں اور سب کی مشکل کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس بات کی ان کے بچوں نے تائید کی اور کہا کہ ہمیں اکثر شکایت ہی اس بات پر ہوجاتی ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنوں کو نظر انداز کر کے دوسروں کو ترجیح دے دیتے ہیں ۔محبوب اسلم نے کہا کہ ہم نے یہاں مختلف طرح کے مصنوعی ماڈلز سیٹس بنائے ہوئے ہیں مثال کے طو رپر ایک آرٹیفشل گھر بنایا ہوا ہے جس میں ٹریننگ دی جارہی ہے کہ ایک شخص گھر میں قتل ہوجاتا ہے تو اس صورتحال میں کیا کیا چیزیں ممکن ہوسکتی ہیں اور آپ نے کن کن چیزوں کو فوکس کرنا ہے کس طرح ثبوت اکٹھے کرنے ہیں ہم اس طرح کے مخلف سیٹس سے تمام ٹرینی کو اس سے گزارتے ہیں۔محبوب اسلم نے کہا کہ جو فلاحی کام میں کر رہا ہوں اکثر لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد کرتے ہیں اللہ نے مجھے جلدی توفیق دے دی ہے اور اس سے پولیس کا بھی بہت سافٹ امیج جارہا ہے ایکٹر حمزہ علی عباسی نے ایک دفعہ سوشل میڈیا پر ہماری فلاحی کام سے متعلق پوسٹ پر اعتراض کیا تھا لیکن جب انہوں نے خود آکر اس کی تصدیق کی تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہاں واقعی لوگوں کی خدمت کی جارہی ہے پھر انہوں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ بغیر کسی معاوضے کے کام کرنا چاہوں گا۔کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ محبوب اسلم للہ نے کہا کہ ہیڈ آف دی انسٹیٹیویشن باپ کی مانند ہوتا ہے ٹریننگ پر آئے ہوئے لوگوں کو بھی یہی سمجھاتا ہوں کہ کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں ہے اس کو اپنا گھر ہی سمجھیں اسی طرح ہمارے آئی جی صاحب کا بھی یہی رویہ ہے وہ سب سے پیار سے بات کرتے ہیں کانسیٹبل کو عزت دیتے ہیں اور یہی چیزیں سبب بنتی ہیں کہ لوگ دل سے پیار کرتے ہیں۔ محبوب اسلم نے بتایا کہ ہمارے والدین ہم تعلیم دلوانے میں بہت سنجیدہ تھے بالخصوص میری والدہ جو خود پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن یہ چاہتی تھیں کہ میری بہنوں سمیت بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے۔بے سہارا بچوں کی کفالت سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس میں میری اہلیہ کا بہت بڑا کردار ہے انہیں یہ چیز ورثے میں ملی اور اس کام میں انہوں نے مجھے بھرپور سپورٹ کیا۔ میرا رویہ باہر بھی پولیس والا نہیں ہوتا اور یقینا گھر میں بھی ایسا ہی ہے بچوں کو مکمل آزادی حاصل ہے۔