انگلینڈ اور ویلز میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو عمرقید دینے کی تجویز

05 دسمبر ، 2021

لندن(پی اے ) وزرا نے بتایا ہے کہ انگلینڈاور ویلز میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کوعمر قید دینےکی تجویز ہے، یہ تجویز ایک 7 سالہ بچے ٹونی ہجل کو زیادتی کے بعد جس کے پیر کاٹ دئے گئےتھے کو گود لینے والی فیملی کی طرف سےچلائی گئی مہم کے بعد سامنے آئی ہے۔وزیر انصاف ڈومنک راب نے کہا کہ اس قانون سے انتہائی حساس اور بے بس وبے سہارا لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ حاصل ہوسکے گا۔ٹونی کو گود لینے والی ماں پائولا ہجل کا کہناہے کہ اسے اس اعلان سے خوشی ہوئی ہے،منصوبے کے تحت کسی بچے کی موت کاسبب بننے والے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ سزا 14سال سے بڑھا کر عمر قید کردی جائے گی۔ اسی طرح بچوں کو سنگین نقصان پہنچانے والے کی سزا 10 سال سے بڑھا کر 14 سال کردی جائے گی۔پائولا ہجل نے کہا کہ مجوزہ سخت سزائیں پولیس ،کرائم ،سزائوں اور عدالتوں کے بل ٹونی اور زیادتی کا شکار ہونے والے تمام بچوں کی قربانی کا نتیجہ ہیں ٹگنڈہیٹ نے کہا کہ ہجل فیملی نے ایک حقیقی فیملی کا کردار ادا کیا جو نہ صرف ایک دوسرے کا خیال رکھتی ہے بلکہ ہمارے لئے زندگی کو زیادہ بہتر بناتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ بچوں سے زیادتی کرنے والے کے ساتھ انتہائی سختی سے نمٹاجائے گا ،ٹونی کے اصل والدین کو فروری 2018 میں موجودہ زیادہ سے زیادہ 10سال کی سزا سنائی گئی تھی ،اس پر بچہ ہونے کی وجہ سے حملہ کیاگیاتھا اور اس کی انگلیاں اور گھٹنے توڑدئے گئے اوراس کے پیر کے جوڑ موڑ دئے گئے تھے اور اسے 10 دن تک علاج کی سہولت بھی فراہم نہین کی گئی تھی جس کی وجہ سے اسے وہیل چیئرپر آنا پڑاتھا ہیجل کا کہناہے کہ ٹونی روزانہ زیادہ پرامید ہوتاتھا اس نے کبھی اس بات کی شکایت نہیں کی کہ اس پر کیا مصائب توڑے گئے وہ اپنے کام میں مگن رہا ڈومنک راب نے ٹونی ہجل اوراس کے والدین پائولا اورمارک کی جرات کو ؒخراج تحسین پیش کیا انھوں نے کہا تبدیلی ضروری تھی کیونکہ قانون کو انتہائی بے کس اور مجبور لوگوں کے زیادہ سے زیادہ تحفظ دینا چاہئے اور سب سے زیادہ حساس اور بے بس چھوٹے بچے ہیں۔