فرانس 80رافیل جنگی طیارے متحدہ عرب امارات کوفراہم کرے گا،تاریخی معاہدہ ہے ،فرانسیسی وزیردفاع

05 دسمبر ، 2021

پیرس (رضا چوہدری )متحدہ عرب امارات فرانس سے 80رافیل جنگی طیارے خریدے گا، متحدہ عرب امارات نے فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیاروں کی خرید اری کیلئے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔فرانسیسی حکام نے کہا کہ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا معاہدہ تقریباً 17بلین یورو(33 کھرب 68 ارب پاکستانی روپے) کا ہے۔ابو ظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے گزشتہ روز فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملاقات کی۔اماراتی میڈیا کے مطابق دونوں رہنمائوں نے دوستانہ تعلقات، مشترکہ تعاون اور منفرد سٹریٹجک شراکت کے دائرے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔دونوں رہنماوں نے خاص طور پر سرمایہ کاری، اقتصادی امور، جدید ٹیکنالوجی، توانائی اور خوراک میں خود کفالت کے علاوہ ثقافتی اور تعلیمی امور پر بھی بات چیت کی ہے۔ فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی نے ایک ٹویٹ میں اس معاہدے کو ‘تاریخی’ قرار دیا اور کہا کہ یہ علاقائی استحکام میں براہ راست کردار ادا کرے گا۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق امارات اور فرانس کے درمیان جنگی طیاروں کے حوالے سے ہونے والا یہ معاہدہ اب تک کا سب سے بڑا بین الاقوامی معاہدہ ہے۔فرانسیسی ایوان صدر نے بیان جاری کیا جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یو اے ای جو کہ فرانسیسی دفاعی صنعت کے سب سے بڑے صارفین میں سے ایک ہے، نے 12 کاراکال ملٹری ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا نتیجہ ہے جو خودمختاری اور سلامتی کے لیے مشترکہ کام کرنے کی صلاحیت کو تقویت دیتا ہے۔امارات کے ساتھ مذکورہ سمجھوتا طے پاتے ہی ڈاسو کمپنی کے حصص کی قیمت میں 9 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ادھر شیخ محمد بن زاید نے ٹویٹ کیا’ فرانس کے صدر کا خیر مقدم کرتے ہوئے خوشی ہوئی ہم نے دونوں ملکوں کےدرمیان طویل عرصے سے قائم دوستی اور اسٹریٹجک تعاون پر نتیجہ خیز بات چیت کی اور مختلف شعبوں میں شراکت پر دستخط کی تقریب میں موجود رہے۔امریکی اور دیگر یورپی مینوفیکچررز کے مقابلے کے باوجود رافیل نے بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اب اس کے چھ غیر ملکی کلائنٹس ہیں جن میں قطر، ہندوستان، مصر، یونان اور کروشیا شامل ہیں۔ایک پارلیمانی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات پہلے ہی فرانسیسی دفاعی صنعت کے لیے 2011-2020 کے درمیان € 4.7 بلین کے ساتھ پانچواں سب سے بڑا صارف تھا۔پیرس کا اماراتی دارالحکومت میں ایک مستقل فوجی اڈہ ہے۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ رافیل میراج بحری بیڑے کی جگہ لے لے گا اور اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ امریکی F-35 کو ہٹائے کیونکہ متحدہ عرب امارات دو بڑے سپلائرز، فرانس اور امریکہ کے ساتھ اپنی سیکیورٹی کی حفاظت جاری رکھے ہوئے ہے۔