معاشی تباہی کاخوف،دنیابھرمیں اومی کرون سے بچاؤکی ویکسین بنانے کیلئے کوششیں تیز

05 دسمبر ، 2021

واشنگٹن ( نیوز ڈیسک) اقتصادی تعاون کی عالمی تنظیم آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ اومیکرون سے عالمی معیشت کی بحالی کو خطرہ ہے جبکہ دنیا بھر کی حکومتوں نےاپنے ممالک کو لاک ڈاؤن کی صورت میں معاشی تباہی سے بچانے کے لیے کورونا کی نئی قسم اومی کرون سے بچاؤکی ویکسین بنانے کی کوششیں تیز کردیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس سلسلے میں ہوائی اڈوں پر مسافروں کی جانچ کرکے متاثرہ افراد کی شناخت کی جارہی ہے،جب کہ اومی کرون وائرس کو ڈی کوڈ کرنے کا کام بھی تیز کردیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اومی کرون کے تیزی سے پھیلنے کاخدشہ ہے۔ اس سے قبل جاپان میں اومی کرون کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد کھلبلی مچ گئی تھی،جب کہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھی نئی قسم کے وائرس کا دوسرا کیس بھی سامنے آچکا ہے۔ تیزی سے وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر بازاروں میں سناٹا چھا گیا ہے۔ اس وقت دنیا کے قریب ہر خطے میں حکومتیں جس تیز رفتاری سے حفاظتی اقدامات کررہی ہیں، اس سے معاشی دباؤ کی کیفیت واضح ہورہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے جنوبی افریقااومیکرون کی شناخت کی خبرعام ہوئی تھی اور اس کے بعد سے دنیا کے ایک درجن سے زائد ممالک میں اس کی موجودگی کا پتا چل چلا ہے۔ برطانیہ اور دنیا کی دیگر بڑی معیشتوں نے جنوبی افریقاجانے اور وہاں سے آنے والی تمام تر پروازوں پر فوری طور پر پابندی لگا دی ہے۔ دوسری جانب امریکانے اومی کرون سے نمٹنے کے لیے ہوائی اڈوں پر اقدامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں امریکاکے 4بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر نگرانی بڑھائی جائے گی۔ امریکاجانے والوں کو ایک روز پہلے کورونا ٹیسٹ کرانا ہوگا ۔امریکاپہنچنے کے بعد 5روز میں دوبارہ ٹیسٹ کروانے کو لازمی قرار دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔علاوہ وزیں اقتصادی تعاون کی عالمی تنظیم آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ اومیکرون سے عالمی معیشت کی بحالی کو خطرہ ہے، 38 صنعتی ممالک کی اقتصادی تعاون تنظیم نے 2021 کیلئے شرح ترقی کے ہدف میں کمی کرتے ہوئے ویکسینز کیلئے مہم چلانے کا مطالبہ کیا ہے، عالمی اقتصادی تنظیم نے عالمی معاشی ہدف 5.7سے کم کرکے 5.6مقرر کردیا ، دوسری جانب دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں بدھ کے روز اضافے کا رحجان رہا جبکہ تیل کی قیمتوں میں تین فیصد اضافہ ہوا ہے، برینٹ کروڈ کی قیمت 71.59 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکا میں تیل کی قیمت 68.19 ڈالر ہوگئی، یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں اضافے کےرحجان کا اثر ایشیائی منڈیوں پر بھی پڑا، ٹوکیو، ہانگ کانگ ، سنگاپور، سیئول ، ویلنگٹن ، ممبئی ، بینکاک اور تائپے کی اسٹاک مارکیٹس میں اضافے کا رحجان رہا ، کورونا کی ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے سربراہان کے مختلف بیانات اسٹاک مارکیٹس میں اضافے کی وجہ بنے ہیں۔ کچھ سربراہان نے موجودہ ویکسین کو اومی کرون کیخلاف غیر موثر قرار دیا تھا تاہم چند کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ کورونا کی نئی قسم سے لڑنے کیلئے بوسٹر ڈوز تیار کررہے ہیں، کمپنیوں میں بوسٹر ڈوز کی تیاری کیلئے مقابلہ شروع ہوگیا ہے ۔ قبل ازیں امریکی اسٹاک مارکیٹوں وال اسٹریٹ اور ڈاو میں کاروبار کا آغاز 0.8 فیصد اضافے سے ہوا۔ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی جبکہ اس سے قبل اس کی قدر میں اضافہ ہوا تھا۔ کورونا کی نئی طاقتور قسم اومی کرون کے سامنے آنے کے بعد سے سرمایہ دار گزشتہ ایک ہفتے سے گومگوں کی کیفیت کا شکار ہیں، جس کی وجہ کئی ممالک کی معاشی صورتحال کا غیر واضح ہونا، تازہ سفری پابندیوں کا اعلان اور مارکیٹوں کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ سرمایہ کار اب بھی عالمی معیشت اور ممکنہ طور پر نئے لاک ڈاونز کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ کورونا کی نئی قسم پر مزید تحقیق کررہے ہیں اور انہوں نے تیزی سے ویکسی نیشن مہمات کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر اوپیک اور تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کے کارٹل نے اجلاس طلب کرلیا ہے، تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو امریکا کی جانب سے تیل کی پیداوار بڑھانے کے دباو کا سامنا ہے جبکہ اس کیساتھ ساتھ کورونا کی نئی قسم نے معیشت کو درپیش خطرہ مزید بڑھا دیا ہے۔