وضو کے پانی کو دوبارہ قا بل استعمال بنانے کا منصوبہ پیش کردیا گیا

04 اگست ، 2025

کراچی (نمائندہ جنگ)کراچی کے طلبہ نے وضو کے پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر جدید سائنسی طریقہ سے تین ٹینکوں کی مدد سے فلٹریشن کے ذریعے دوبارہ سے قابل استعمال بنانے کا منصوبہ پیش کردیا ہے ۔اس منصوبہ کا نام ʼʼنہر الخیر (دریائے خیر)ʼʼ تجویز کیا گیا ہے۔ کراچی کے علاقے بفرزون کی جامع مسجد علی میں اس فلٹریشن نظام کا تجربہ کیا گیا ہے۔ علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طالب علموں عمر ایان عباس، محمد تبریز، محمد خضر، محمد شایان، محمد نسیم، ابو بکر، سید حسان، محمد حذیفہ، اویس قریشی، محمد زبیر، شیخ شہزاد، سید عمار، محمد عالیان، عبداللہ فیصل، علی عباس رضوی، سید ذوالفقار علی، سید زین علی، سید حمزہ اور ایان نے اپنے استاد انجینئر سید محمد سعد کی زیر نگرانی یہ کارنامہ انجام دیا۔مذکورہ منصوبے میں تین خصوصی ٹینک شامل ہیں: ایک ٹینک، جس میں موٹا پتھر اور باریک پتھر، بجری اور چارکول شامل ہیں؛ دوسرا ٹینک، جو نجاست اور آلودگی کو علیحدہ کرتا ہے؛ اور تیسرا ٹینک، جو مٹی کے جذب اور موجودہ بورنگ کے ذریعے زیر زمین پانی کی سطح کو بحال کرتا ہے۔ یہ منصوبہ پانی کے تحفظ اور خشک بورنگ کے مسئلے کا انقلابی حل تصور کیا جارہا ہے۔