فلسطینیوں کے حق میں آسٹریلیا کے ہاربر برج پر لاکھوں جمع ، برطانیہ ، جرمنی ، ڈنمارک میں بھی مظاہرے

04 اگست ، 2025

سڈنی ، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت ، ناکہ بندی اور جبری قحط کیخلاف فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور اور تاریخی ہاربر برج پر لاکھوں افراد نے ریلی نکالی ، ہاربر برج پر تاحد نگاہ انسانوں کا سمندر تھا،جرمنی ، ڈنمارک ، انڈونیشیا کے شہر جکارتہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں بھی ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلیاں نکالیںمظاہرین نے غزہ میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں مسلط کردہ قحط کی مذمت کی ، غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا، جکارتہ میں مظاہرین نے مصر سے رفح کی راہداری کھولنے کا بھی مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ہاربر برج پر فلسطینیوں کے حامی لاکھوں افراد نے تیز ہواؤں اور بارش کے باوجود برج پر مارچ کیا، "فوری جنگ بندی" اور "فلسطین آزاد کرو" کے نعرے لگائے، مارچ میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج بھی شریک تھے جو آسٹریلیا کے سابق وزیر خارجہ اور نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر باب کار کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے دیکھے گئے، بائیں بازو کی گرینز پارٹی کی نیو ساؤتھ ویلز کی سینیٹر مہرین فاروقی نے وسطی سڈنی کے لینگ پارک میں جمع ہجوم کو بتایا کہ یہ مارچ "تاریخ رقم کرے گا"۔ انہوں نے "اسرائیل پر سخت ترین پابندیاں" لگانے کا مطالبہ کیا، اس کی افواج پر غزہ کے باشندوں کے "قتل عام" کا الزام لگایا، اور نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز کو احتجاج نہ کرنے کے بیان پر تنقید کی،درجنوں احتجاجی مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ہزاروں فلسطینی بچوں کے نام درج تھے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں۔ لیبر بیک بینچ کے رکن پارلیمنٹ ایڈ ہسک نے مارچ میں شرکت کی اور اپنی حکمران پارٹی، جس کی قیادت وزیر اعظم انتھونی البانیز کر رہے ہیں، سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔