پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کی آفس بلڈنگ میں بائی لاز کی خلاف ورزی کاا نکشاف

04 اگست ، 2025

اسلام آباد ( رانا غلام قادر )سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن نے پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC)کو الاٹ شدہ پلاٹ کی بلڈنگ کی تعمیر میں بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی کا نوٹس لے لیا ۔ یہ بلڈنگ سیکٹر جی ٹین فورکے ماو ایریا کے پلاٹ نمبر41پر واقع ہے۔ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل نے سی ڈی اے سے کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کئے بغیر ہی پچھلے کئی سالوں سے زیر تعمیر بلڈنگ میں دفتر قائم کررکھا ہےجو اسلام اآ باد بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2020کی خلاف ورزی ہے،سی ڈی اے نے پی وی ایم سی کو شوکاز نوٹس بی جاری کردیا ،سی ڈی اے نے وزارت نیشل فوڈ سیکورٹی کو بھی مراسلہ کے ذ ریعےآ گاہ کردیا،قبل ازیں وفاقی وزات نیشل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ نے چیئرمین سی ڈی اے کو پی وی ایم سی کی سی ڈی اے کے قوانین کی خلاف ورزی، منظور شدہ نقشہ کے بر عکس تعمیر پر خط لکھا تھا،اس سے پہلے بھی 8جولائی کو پی وی ایم سی کیخلاف خط لکھا تھا اب 28 جولائی کو ریمائنڈر بھجوایا گیا جس میں پی وی ایم سی کے خلاف ایکشن لینے کا بھی لکھ دیا، پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل ( پی وی ایم سی ) وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کا ذیلی ادارہ ہے، وزارت کے خطوط کے مطابق پی وی ایم سی نے اپنے آفس بلڈنگ کی تعمیر کے دوران سی ڈی اے کے بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کی، بلڈنگ سرٹیفکیٹ حاصل کئے بغیر بلڈنگ میں دفتر قائم کر لیا ، جس سے پی وی ایم سی کے ملازمین کی جانوں کو بھی خطر ے کا سامنا ہے ، وزارت نے اپنے خطوط میں چیئرمین سی ڈی اے سے کہا ہے کہ پی وی ایم سی کی زیرتعمیر آفس بلڈنگ کے تمام معاملات کو دیکھا جائے اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے ، وزارت نے چیئرمین سی ڈی اے کو تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے ، ذرائع کے مطابق پی وی ایم سی اے کا گرے سٹرکچر فروری 2016میں مکمل کیا گیا تھا اورسی ڈی اے کی اجازت کے بغیر پھر زیر تعمیر بلڈنگ میں اپنا دفتر گرائونڈ فلور میں مارچ 2016میں قائم کر لیا تھا، آڈٹ رپورٹس میں بھی بلڈنگ کی تعمیر بغیر پی سی ون کے حوالے حیرانی کا اظہار کیا گیا کہ ایک سرکاری خودمختار ادارے کی عمارت بغیر پی سی ون کے کیسے تعمیر کی گئی اور اتنے سال گزرنے کے باوجود ابھی مکمل نہ ہو سکی ۔