کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت امن کی ہے، حکومت بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے ، بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے،بلوچستان پاکستان کا مستقبل اور معدنیات سے مالا مال ہے لیکن اس کے عوام غربت، محرومی اور بدامنی کا شکار ہیں ، بلوچستان کو سیاسی اور معاشی معاملات میں شامل، آئینی حقوق دیئے اور فیصلہ سازی کا اختیار صوبے کے منتخب نمائندوں کو سونپا جائے،صوبے میں بیرونی مداخلت بند کی جائے۔ یہ بات جماعت اسلامی کے سابق امیر مولانا سراج الحق،شفیق الرحمن وڑایچ،پارٹی کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ خالد، قاری محمد یعقوب شیخ، مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صوبائی حافظ محمد ادریس مغل،مولانا عبدلقادر لونی،مولانا عبدالحق ہاشمی، سردار سعود ساسولی، میر شاہجہان گرگناڑی ،قار ی عبدالرشید،حبیب اللہ شاہ چشتی، دبیر حسین ، سردار محمد افضل تاجک ،عبدالہادی کاکڑ ،شکرخان رئیسانی ، ملک میرا خان نیازی ، ملک محمد اسلم ، ڈاکٹر ہارون ڈاکٹر عبدالرشید ، ڈاکٹر نادر خان اچکزئی ، میر فیض مری ، محمد ثاقب ، محمد عبداللہ بلوچ اور دیگرنے اتوار کومرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں اتحاد امت جرگہ سے خطاب کرتے ہوئےکہی،جرگہ میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں رہنماوں، علمائے کرام، اساتذہ، طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔جماعت اسلامی کے سابق امیرسراج الحق نےبلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے، یہ معدنیات سے مالا مال ہے لیکن اس کے عوام غربت، محرومی اور بدامنی کا شکار ہیں ، ہم یہاں بلوچستان کے لیے جمع ہوئے ہیں ،یہاں کے لوگ محنتی اور باہمت ہیں صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے 2 ملین سے زائد بچے تعلیم جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں،کرپشن کی شرح 65 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، اگر بلوچستان کے سالانہ بجٹ کو شفاف طریقے سے عوام پر خرچ کیا جائے تو تمام مسائل کا خاتمہ ممکن ہے ، امن و امان کے لئے بھاری بجٹ مختص کیے جانے کے باوجود دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں، جو تشویشناک ہے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں ہی پاکستان کی بقا ترقی ہے پورا ملک بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو سیاسی اور معاشی معاملات میں شامل، آئینی حقوق دیئے اور فیصلہ سازی کا اختیار صوبے کے منتخب نمائندوں کو سونپا جائے ۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل سیف اللہ خالد نےکہا کہ بلوچستان میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت امن کی ہے۔ حکومت کی اولین ذمے داری ہے کہ محفوظ ماحول دے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ محروم اور نظر انداز کیا گیا صوبہ ہے، بلوچستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہا کہ بلوچستان کے تمام راستوں کو کلیئر اور محفوظ بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے تاکہ عوام اور تاجر دونوں امن سے زندگی گزار سکیں ۔قاری محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں قبائلی رہنماوں اور شہری اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا کریں تاکہ ہم سب مل کر آنے والے چیلنجز کا منظم اور متفق ہو کر مقابلہ کرسکیں ، اتحاد کے ذریعے ہی کامیابیاں کرسکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم کوئی ہجوم نہیں بلکہ ایک امت ہیں ۔ مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ سخت پالیسیوں نے عوام میں بے چینی کو جنم دیا ہے ، چیک پوسٹوں پر عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔ مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرچکا ہے ، لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے ۔
کراچی بہادر آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حساس ادارے کا جعلی افسر بن کر شہریوں کو دھوکا دینے والے دو...
اسلام آباد جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ناظم عمومی مولانا عبدالغفور حیدری نے وفاقی وزیرداخلہ سے استعفیٰکا...
کوئٹہعوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں کچلاک کے عظیم شہدا شہید ملک قاسم خان مہترزئی شہید ملک محبت خان...
کوئٹہپشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ تحصیل صدر سے مربوط ترخہ ہدہ علاقائی یونٹ کی کانفرنس تحصیل سیکرٹری...
کوئٹہ آل پارٹیز انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کے زیرِ اہتمام سانحہ زیارت اور سانحہ ہنہ اوڑک کے خلاف ضلع...
مریدکے وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کو ملک کے اندر اور...
کراچی فلور ملز مالکان نے ایکس مل پرائس میں 8 روپے فی کلو کمی کا اعلان کر دیاچیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ...
بیلہ بیلہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں گزشتہ شب قریباً پونے گیارہ بجے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث...