معصوم بہنوں کی بوری بند لاشوں کا معمہ حل ، ماں قاتل نکلی

04 اگست ، 2025

کوئٹہ(نسیم حمید یو سف زئی ) سریاب کلی بنگلزئی میں زیر تعمیر گھر سے پانچ روز قبل ملنے والی بوری بند ھ لاشوں کا معمہ حل ہو گیا ۔ ماں ہی اپنی بچیوں کی قاتل نکلی ۔ دوران تفتیش اس نے بتایا کہ وہ بچیوں کو نہا رہی تھیں چھوٹی بیٹی پانی کے ٹب میں سانس بند ہونے سے مری جبکہ دوسری کو میں نے ٹب میں ڈالا کر مار دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق30جولائی کو سریاب کے علاقے کلی بنگلزئی میں زیر تعمیر گھر کے کچن سے تین سالہ میرب بی بی اور پانچ سالہ یسریٰ دختر سدھیر خان کی لاشیں ملی تھیں جو اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نانا کے گھر میں رہتی تھیں پولیس نے بتایا کہ بچیوں کے والدین میں دو سال قبل علیحدگی ہو گئی تھی جس کے بعد خانگی فیصلہ ہوا تھا کہ بچیاں چونکہ چھوٹی ہیں اس لیے اپنی والدہ کے پاس رہیں گی تاہم ہفتے میں ایک روز والد سے ملاقات کیلئے جاسکتی ہیں ۔پولیس نے بتایا کہ ا بتدائی بیان میں ماں نے بتایا تھا کہ بچیوں کو ان کا چھوٹا چچا لے کر گیا تھا چار روز گزرنے کے باوجود بچیاںواپس نہیں آئیں۔ سریاب پولیس نے مقدہ درج کر کے کیس سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ منتقل کر دیا تھا ۔جس پر ایس ایس پی سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ نے ٹیم تشکیل دی تھی جس نے بچیوں کے والد سدھیر خان اور والدہ رخسانہ بی بی کو حراست میں لے کر شامل تفتیش کیا ۔ تفتیش میں والد نے بتایا کہ بچیوں کو 27جولائی کووا پس ماں کے پاس بھیج دیا تھا ۔چار روز تک تفتیش کی جاتی رہی۔ گزشتہ شب دوران تفتیش والدہ نےاعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ 28جولائی کو میں بچیوں کو نہلا رہی تھی کہ اسی دوران فون بجا میں فون سننے کیلئے گئی تو میری چھوٹی بیٹی میرب بی بی ٹب میں گر گئی جس کی وجہ سے اس کا سانس بندہو گیا جب میں واپس آئی تو وہ مری چکی تھی میں خوف زدہ ہو گئی اور بڑی بیٹی یسریٰ کو بھی ٹب میں ڈال کر مار دیا۔ملزمہ نے مزید بتایا کہ اس کے بعد دونوں بچیوں کی لاشیں پلاسٹک کی بوریوں میں ڈال کر زیر تعمیر گھر کے کچن میں رکھ دی تھیں۔ سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ نے ملزمہ کو باقاعدہ طور پر گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی اہم انکشاف اور مزید گرفتار ی کا امکان ہے۔