پاک ایران 12 معاہدے، سلک روڈ اور گوادر کا چاہ بہار کے منصوبوں میں اشتراک فری ٹریڈ ایگریمنٹ تیار

04 اگست ، 2025

اسلام آباد(نیوزرپورٹر/اپنے رپورٹرسے)پاکستان اور ایران کے مابین 12معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوںپر دستخط‘دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح کے مذاکرات‘ایران کاسلک روڈ اور گوادر تا چاہ بہارکے منصوبوں میں اشتراک، کوئٹہ زاہدان ٹریک اور تجارتی امور سمیت زمینی رابطے بڑھانے پر اتفاق ‘فری ٹریڈمعاہدہ تیار ‘دوطرفہ تجارت کے موجودہ 3 ارب ڈالر کے حجم کو جلد از جلد 10 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ‘ایران کو اکتوبر میں وزارتی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی گئی جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہےکہ پاکستان پرامن مقاصد کیلئے ایران کے جوہری پروگرا م کی حمایت کرتا ہے‘اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تہران کوپرامن مقاصد کیلئے جوہری توانائی کے حصول کا پورا حق حاصل ہے‘ کسی قسم کی دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا‘ایرانی صدر مسعودپزشکیان نے کہاکہ جب تک ہم متحد رہیں گے تو ہماری خودمختاری قائم رہے گی‘ایران پاکستان کو اپنا ہمسایہ ہی نہیں بلکہ بھائی سمجھتا ہے ‘ انہوں نے وزیراعظم کو دورہ ایران کی دعوت بھی دی ۔تفصیلات کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روزشہباز شریف سے وزیر اعظم ہاؤس میں دوطرفہ ملاقات کی ‘جس کے بعد وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار‘آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اہم وفاقی وزراء موجود تھے ۔ وزیراعظم نے ایرانی قیادت، مسلح افواج اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا‘انہوں نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔ صدر پزشکیان نے جنگ کے دوران ایران کی غیرمتزلزل حمایت پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایرانی قوم اس جذبے کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔دونوں رہنماؤں کے مابین تجارت کے فروغ کے لیے کئی اقدامات پر بات چیت ہوئی، جن میں بارٹر ٹریڈ کی سہولت، چاول، پھلوں اور گوشت کی برآمد کے لیے کوٹہ میں اضافہ، سرحدی بازاروں کی فعالی اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کے موجودہ 3 ارب ڈالر کے حجم کو جلد از جلد 10 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ علاوہ ازیںشہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن مقاصد کےلئے ایران کے جوہری پروگرا م کی حمایت کرتا ہے‘دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور ایران کا موقف ایک ہے، کسی قسم کی دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ اتوار کو یہاں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کے تبادلہ کی تقریب کے موقع پرمشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔وزیراعظم نے کہاکہ جنگ کے دوران ایران کے عوام اور حکومت نے اپنی خودمختاری اور حمیت کا بھرپور دفاع کیا۔ہم خطے میں امن وترقی کی شاہراہوں کو کھولنے کےلئے کئی سو کلومیٹر طویل سرحدوں کو کھولنے کےلئے دہشتگردی کے خلاف بھرپور تعاون کو یقینی بنائیں گے تاکہ ہمیشہ کے لئے دہشتگردی کا قلع قمع کیا جاسکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا کو یک زبان ہو کر غزہ کے حوالہ سے آواز بلند کرنی چاہئے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدرمسعود پزشکیان نے قرآنی آیات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہمارا دوست اور ہمسایہ ملک پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے‘مذہب کی بنیاد پر اتحاد کا سبق ہمارے پیغمبر نے بھی دیا تھا اور جب تک ہم متحد رہیں گے تو ہماری خودمختاری قائم رہے گی‘ایران پاکستان کو اپنا ہمسایہ ہی نہیں بلکہ بھائی سمجھتا ہے‘ہم نے سیاست، ثقافت وغیرہ کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کےلئے متحدد دستاویزات پر دستخط کئے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ، سائنس وٹیکنالوجی، ثقافت ، سیاحت اور کاروباری شعبوں کی ترقی میں مدد ملے گی۔ٹرانزٹ ٹریڈ کی رہداریوں ریل، روڈ اور بحری روٹس کی ترقی ، بارڈر مارکیٹس، مشترکہ فری اکنامک زونز کا قیام ہمارے لئے اشد ضروری ہے جس سے دونوں ممالک کے رابطوں میں استحکام اور وسعت آئے گی۔ اسرائیلی جارحیت کے خاتمہ کےلئے علاقائی اور عالمی اشتراک کی ضرورت ہے۔اپنی گفتگو کے آخر میں مہمان نوازی پر ایک مرتبہ پھر اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دورہ ایران کی دعوت بھی دی تاکہ باہمی تعلقات کے فروغ کے عمل کو مزید وسعت دی جاسکے۔قبل ازیں پاکستان اور ایران نے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں کا تبادلہ کیا‘ اس حوالہ سے وزیراعظم ہائوس میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مجموعی طور پر 12 دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا جن میں سرفہرست پلانٹ پروٹیکشن اور پلانٹ کو رینٹائن کا معاہدہ تھا۔ دریں اثناءپاکستان ایران بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایران فری ٹریڈ معاہدہ تیار ہو چکا‘ سرحدی تجارت دونوں ملکوں کے لیے اہم ہے‘ مندپشین بارڈر مارکیٹ دوبارہ فعال ہو گئی‘ چاغی کوہک اور گبدریمدان مارکیٹس جلد فعال کی جائیں گی،نئی مارکیٹس سے سرحدی علاقوں کو فائدہ ہوگا۔