حکومت کا قطر سے مستقبل کی گیس سپلائی پر مذاکرات کا فیصلہ

04 اگست ، 2025

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)حکومت کا قطر سے مستقبل کی گیس سپلائی پر مذاکرات کا فیصلہ، اس سلسلے میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد رواں ماہ قطر کا اہم دورہ کریگا۔ ایک اہم پیش رفت میں، حکومت نے قطر کے ساتھ مستقبل میں گیس کی فراہمی کے امکانات پر بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں مارچ 2026 تک دو ایل این جی ٹرم معاہدوں کے تحت ’’پرائس اوپننگ کلاز‘‘ کا نفاذ اور ایل این جی کارگوز کا بین الاقوامی منڈیوں کی طرف موڑنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں آر ایل این جی کی موجودہ بہتات کا بحران کئی گنا بڑھ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بجلی کے شعبے کی جانب سے درآمد شدہ گیس کو معاہدوں کے مطابق استعمال نہ کرنا اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں، پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے ʼدی نیوز کو بتایا کہ رواں ماہ اگست کے آخر تک وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد قطر کا اہم دورہ کرے گا۔ پاکستان ایک ناقابلِ انتظام ایل این جی اضافی مقدار (گلوٹ) کا سامنا کر رہا ہے اور گیس کی کھپت میں کئی گنا کمی کے باعث نیشنل پٹرولیم ڈویلپمنٹ کلاز کے تحت کچھ ایل این جی کارگو کو بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کے لیے منتقل کرنے کی کوشش کرے گا، کیونکہ 30 ایل این جی کارگو اضافی ہو چکے ہیں۔ قطر کے ساتھ ہونے والے دو ایل این جی (LNG) طویل المدتی معاہدوں کے تحت، مارچ 2026 میں پرائس اوپننگ کلازکو فعال کیا جائے گا۔ اس موقع پر پاکستان قطر کے ساتھ آئندہ ایل این جی کی فراہمی کے بارے میں بھی بات چیت کرے گا جس کا مقصد 2027 سے نافذ ہونے والے مستقبل کے سپلائی آؤٹ لک کے منظرنامے پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ پاکستان قطر سے ایل این جی کے کچھ کارگوز چھوڑنے کا مطالبہ کر سکتا ہے، کیونکہ ’’پرائس اوپننگ کلاز‘‘ پاکستان کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ باقی ماندہ کارگوز کی نئی ٹرم قیمتوں کے ساتھ کچھ کارگوز سے دستبردار ہو جائے۔