متروکہ وقف املاک بورڈ میں اصلاحات، وزیر اعظم نے کمیٹی بنا دی

04 اگست ، 2025

اسلام آباد ( رانا غلام قادر )وفاقی حکومت نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی کار کردگی بہتر بنا نے کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات اور لیگل فریم ورک اور گورننس میں تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس مقصد کیلئے وزیر قانون و انصاف سنیٹر اعظم نذیر تارڑ کی سر براہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔  جائیدادوں کی پبلک  پرا ئیویٹ پارٹنر شپ کے تحت  کمرشل سر گر میوں  کا جا  ئز ہ لے کر  ایک ماہ میں  رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرے گی                                  ،کمیٹی پراپرٹیز کے کرایہ کے ایو یلو ایشن سسٹم کا جائزہ اور شفاف میکانزم تجویز کریگی ، کمیٹی کے دیگر ممبران میں سیکرٹری وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم اآہنگی ۔چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ۔وزارت قانون کے ایک ماہر۔چاروں صو بوں کے بورڈ آف ریونیو سے ایک ایک نمائندہ ۔سی ای او پنجاب اربن یونٹ ۔ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے۔سی ای او پی تھری اے شامل ہیں۔ کمیٹی متروکہ وقف املاک بورڈ کے اپریشنز اور بز نس پرا سیس کا جا ئزہ لے گی اور ادارے میں سٹرکچرل اصلاحات کیلئے روڈ میپ تجویزکرے گی۔ کمیٹی کی ٹی او اآرز بھی وضع کردی گئی ہیں۔کمیٹی متروکہ وقف املاک بورڈ کے لیگل فریم ورک اور گورننس سٹرکچر کا جائزہ لے گی کہ اآیا یہ بہترین پریکٹسز کے مطابق ہیں یا نہیں ؟؟۔کمیٹی بورڈ کے انوسٹمنٹ پورٹ فولیو کا جائزہ لے گی کہ دستیاب وسائل کو موثر طریقے سے کیسے استعمال میں کیسےلیا جا سکتا ہے؟؟؟۔کمیٹی بورڈ کی ملک بھر میں پھیلی ہوئی پراپرٹیز کی انوٹنری کے موجودہ سسٹم کا جا ئز ہ لے گی اور MIS اورGIS کی بنیاد پر پراپرٹی ڈیٹا تیار کرنے کیلئے تجاویز دے گی۔کمیٹی پراپرٹیز کے کرایہ کے ایو یلو ایشن سسٹم کا بھی جائزہ لے گی اور زیادہ موثر اور شفاف میکانزم تجویز کرے گی۔ادارے کی کا کر کردگی بہتربنا نے کیلئے ہیومن ریسورس کی استعداد کارکا بھی جا ئزہ لے گی۔بورڈ کی جائیدادوں کی پبلک پرا ئیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کمرشل سر گر میوں کے اآپشن کو استعمال میں لانے کیلئے تھرڈ پارٹی کے ذریعے فیز یبلٹی اسٹڈی کرانے کا جا ئز ہ لے گی۔ کمیٹی ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔ کنوینر وزیر قانون نے کمیٹی کا پہلا اجلاس پانچ اگست کو وزارت قانون میں طلب کر لیا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے سیکرٹری متروکہ وقف املا ک بورڈ کو فوکل پرسن مقرر کردیا ہے۔انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمیٹی کو تمام متعلقہ معلومات اور ریکارڈ فر اہم کریں ۔