PTIاحتجاج صرف دو دن ، قیادت میں واضح حکمت عملی نظر نہیں آ رہی ،تجزیہ کار

04 اگست ، 2025

کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان“ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئےتجزیہ کاروں نےکہا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں صرف دو دن رہ گئے، قیادت میں واضح حکمت عملی نظر نہیں آرہیـ ۔5 اگست تک تحریک کا عروج دکھائی نہیں دیا، اس کی تنظیمی بنیاد بھی کمزور ہے، پارٹی داخلی بحران کا شکار ہے، پارٹی کے اندرونی اختلافات تحریک کو متاثر کررہے ہیں، ٹی ٹی پی کے مطالبات ریاست پاکستان کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔پروگرام میں عاصہ شیرازی، اطہر کاظمی اور افتخار فردوس نے گفتگو کی۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان شہزاد اقبال نے 5 اگست کے پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ اس احتجاج کی کال صرف دو دن دور ہے، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے احتجاج کے لائحہ عمل، ٹائم فریم اور قیادت میں کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ شہزاد اقبال نے بتایا کہ محمود اچکزئی اس احتجاج کی قیادت کریں گے، جبکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے صرف اخلاقی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اس تحریک کی ذمہ داری لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ شہزاد اقبال نے قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا ذکر کیا اور بتایا کہ مقامی قبائلی عمائدین نے دہشت گردوں سے ان علاقوں کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتیں اور مقامی افراد اس آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن کیسے قائم ہوگا؟ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کی صدارت میں امن و امان سے متعلق جرگوں کا آغاز کیا گیا ہے۔پروگرام کے دوران شہزاد اقبال نے فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور غزہ میں بچوں اور بڑوں کی فاقہ کشی کے مناظر پر بھی بات کی۔ غزہ میں 175 افراد کی ہلاکت، جن میں 93 بچے شامل ہیں، عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہے۔ تاہم، اسرائیل کے خلاف عالمی احتجاج کے باوجود اس پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ پروگرام میں برطانوی پراسیکیوٹر کریم خان کے بارے میں بھی حیران کن انکشافات کیے گئے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے اس احتجاجی تحریک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ابھی تک واضح لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 5 اگست تک تحریک کا عروج دکھائی نہیں دیا، اور اس کی تنظیمی بنیاد بھی کمزور ہے۔ تحریک انصاف اس وقت داخلی بحران کا شکار ہے اور اس کی قیادت اس تحریک کو منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔عاصمہ شیرازی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی واضح ہدایات تھیں کہ5 اگست کی احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے لیکن اس کے باوجود ان کی باہر قیادت باقاعدہ طریقے سے احتجاج مینج نہیں کرسکی ہے۔ انتظامی یا تنظیمی بنیادوں پر ان کا ڈھانچہ موجودہ ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں ہے۔کہا گیا تھا کہ5 اگست تک تحریک اپنے عروج پر جائے گی ہمیں ابھی تک وہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس میں ایک مرکزی کردارتحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا بنتا ہے۔9 مئی کے مقدمات کے فیصلے سنائے جارہے ہیں پارٹی شدید دباؤ کا شکار ہے۔اس سے قبل ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔26 نومبر کے بعد سے اب تک تحریک انصاف کے رہنماؤں کا مختلف نقطہ نظر رہا ہے پارٹی میں تضاد نظر آتا رہا ہے۔