پاکستان اور ایران کا دو طرفہ تجارت بڑھانے پر اتفاق لیکن امریکی پابندیاں رکاوٹ

04 اگست ، 2025

اسلام آباد ( رانا غلام قادر )پاکستان اورایران کادوطرفہ تجارت سالانہ آٹھ سے دس ارب ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق ہے لیکن عملی طور پر امریکی پابندیاں اس ہدف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایک طرف پاکستان کاایران سےدرآمدات پرہر گزرتےسال کےساتھ انحصارمیں مسلسل اضافہ ہورہاہےتو وہیں دوسری طرف امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے لیےپاکستانی برآمدات نہ ہونے کےبرابر ہیں۔مالی سال دو ہزار انیس، بیس سے لیکر مالی سال دو ہزار تئیس،چوبیس تک کے پانچ سال کے دوران ایرانی کے لیےمجموعی پاکستانی برآمدات محض ایک لاکھ تیس ہزار ڈالرز رہیں۔اسی دوران دو سال ایران کے لیے پاکستانی برآمدات صفر بھی رہیں تھیں جبکہ صرف گذشتہ ایک سال میں ایران سے پاکستانی درآمدات ایک ارب بائیس کروڑ ڈالرز سے زائد رہیں ۔ گذشتہ6 سال کےدوران پاکستان کی ایران سےدرآمدات کی تفصیلات سامنے آگئیں-حکومتی ذرائع کےمطابق مالی سال 2024۔25 میں پاکستان کی ایران سے درآمدات ایک ارب 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز،مالی سال 2023۔24 میں ایک ارب 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز اورمالی سال2022۔23میں ایران سے پاکستان کی درآمدات88کروڑڈالرز تھیں-اسی طرح مالی سال2021۔22میں ایران سے درآمدات کاحجم77 کروڑ38لاکھ ڈالرزاورمالی سال2020۔21میں پاکستان کی ایران سےدرآمدات 51کروڑ 86لاکھ ڈالرزتھیں جبکہ مالی سال2019۔20 میں ایران سے پاکستانی درآمدات کاحجم44 کروڑ ڈالرز تھا-حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2019۔20 سے لیکر 2023۔24تک کے5برسوں میں ایران کےلیے پاکستان کی مجموعی برآمدات محض ایک لاکھ 30 ہزارڈالرز تھیں-ذرائع کے مطابق مالی سال 2023۔24 میں ایران کےلیےپاکستانی برآمدات20ہزار ڈالرز تھیں اورمالی سال2022۔23 میں ایران کے لیےپاکستانی برآمدات ایک لاکھ ڈالرزتھیں-ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2020۔21 اور2021۔22 میں ایران کے لیےپاکستانی برآمدات صفر تھیں جبکہ مالی سال2019۔20میں ایران کے لیےپاکستانی برآمدات صرف10ہزار ڈالرزتھیں-حکومتی ذرائع کے مطابق کہ امریکی پابندیوں کےباعث بینکنگ چینلز کانہ ہوناایران کے لیے پاکستانی برآمدات میں رکاوٹ کی بڑی وجہ رہی ہے۔