گندم کی کم از کم امدادی قیمت مقرر کرنے کی پالیسی منڈی کو مستحکم کرنےمیں ناکام

04 اگست ، 2025

اسلام آباد(تنویر ہاشمی ) گندم کی کم از کم امدادی قیمت مقرر کرنے کی پالیسی منڈی کو مستحکم کرنے، کاشتکاروں کو تحفظ دینے اور صارفین کو فائدہ دینے میں ناکام رہی اس لیےپاکستان میں گندم کے شعبے کو مکمل او ر منظم ڈی ریگولیشن نہایت ضروری ہے، گندم کی امدادی قیمت سے بڑے زمینداروں ، فلور ملز اور مڈل مین کو فائدہ پہنچ رہا ہے،پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے گندم سے متعلق گیم چینجر پالیسی کا بلیو پرنٹ جاری کردیا ، رپورٹ میں پاکستان کے گندم کے شعبے کی مکمل اور منظم ڈی ریگولیشن کا مطالبہ کیا گیا ہے 2023 تک پنجاب میں گندم کا گردشی قرضہ 680ارب روپے تک پہنچ گیا ، امدادی قیمت مراعاتی نظام کو مسخ کرنے ، فصلوں میںتنوع کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا ہے اور امدادی قیمت سے گندم کی خریداری اور اس کو ذخیرہ کرنے کے لیے سالانہ ٹیکس دہندگان کے جمع شدہ ٹیکس ریونیو کا فنڈز استعمال ہورہا ہے، رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال گند م منڈ ی سے حکومت کےا چانگ انخلا سے مارکیٹ بہت زیادہ متاثر ہوئی اور فلور ملز کو گٹھ جوڑ ( کارٹیلائزیشن)بنانے کا موقع ملا اور فارم کی سطح پرگندم کی کم قیمت ہونے سے پیداواری لاگت پوری نہ ہوسکی ، رپورٹ میں تجویز دی گئی ہےکہ گندم کی نقل و حرکت پر بین الصوبائی اور سرحد پار پابندیوں کو ہٹایا جائے ، سٹریٹجک ذخائر کے طور پر حکومت کل طلب کے 10سے 15فیصد تک ذخائر برقرارر کھے اور ان ذخائر کو چھوٹے کاشتکاروں سے خریداری کو یقینی بنایا جائے جن کا مجموعی گندم کی کاشتکاری میں حصہ 64فیصد ہے، پالیسی نوٹ میں مطالبہ کیا گیاہےکہ آٹا اور آٹے کی روٹی کی قیمت پر کنٹرول کو ختم کیا جائے ،تیل کے بیجوں کی کاشت کو فروغ دیا جائے ، جن میں سرسوں ، سورج مکھی شامل ہیں ، ان فصلوں سے گندم کے مقابلے میں فی ایکٹرپیداوا زیادہ ہے اور یہ پیداور 5036روپے فی ایکٹر زیادہ ہے، گندم کی کاشت کو صرف 10فیصد تیل کے بیجوں پر منتقل کرنے سے کاشتکاروں کی آمدن میں 10ارب 80کروڑ روپے اضافہ ہوگا، اس طرح خوردنی تیل کی درآمد پر انحصار کم ہوگا اور دو ارب 20کروڑ ڈالر زرمبادلہ کی سالانہ بچت ہوگی ، پالیسی رپورٹ کے مطابق درآمدی طلب کادرست تخمینہ نہایت ضروری ہے کیونکہ درآمدی طلب کے تخمینہ میں 2کروڑ 46لاکھ ٹن سے تین کروڑ 25لاکھ ٹن تک درآمدی طلب کے تخمینے میں تضادات ہیں ، جس کے باعث منصوبہ بندی ناقص ہورہی ہےا ور غیر ضروری اجناس درآمد کی جارہی ہیں ، اس کےلیے وزارت فوڈ سکیورٹی وریسرچ کے تحت ایک جامع مرکزی ڈیٹا پورٹل کا قیام عمل میں لایا جائےجس میں اسٹاک، پیداوار، طلب، قیمتوں کا تعین اور مارکیٹ کے رجحانات پر حقیقی وقت کا ڈیٹا موجود ہو۔ پیداوار پر مبنی سبسڈیز، ان پٹ واؤچرز، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے متعلق معلومات فراہم ہوں ، گندم کی قومی پیداوار کو ترقی پسند کسانوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے معیشت کو 609ارب روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔