پنجاب ، پولیس مقابلوں اور محکمانہ طریقہ کار کی معلومات کیلئے قانون کے تحت شکایت دائر

04 اگست ، 2025

لاہور ( آصف محمود بٹ)پنجاب میں حال ہی میں آرگنائزڈ کرائمز سے نمٹنے کے لئے قائم کئے گئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) سے پولیس مقابلوں، محکمانہ ضابطہ کار، عوامی تحفظ کے پروٹوکول اور ایف آئی آر کے اندراج کے طریقہ کار سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے ’’پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013‘‘ کے تحت پنجاب انفارمیشن کمیشن میں ایک شکایت دائر کر دی گئی ہے۔۔’’جنگ‘‘ کو حاصل دستاویزات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار کے رکن یاسین عبد الناصر بٹ کی جانب سے پنجاب انفارمیشن کمیشن میں دائر کی گئی شکایت میں درخواست گزار نے محکمہ پولیس کی جانب سے مقابلوں کے لیے اختیار کردہ معیار، سی سی ڈی کے قیام سے اب تک ان کارروائیوں سے متاثرہ افراد کی فہرست، اور شہریوں بالخصوص نوجوانوں کے تحفظ کے لیے وضع کردہ کسی بھی اندرونی گائیڈ لائن کی تصدیق شدہ نقول طلب کی ہیں۔شکایت میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایف آئی آر درج کرنے کا مکمل طریقہ کار، اور سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ مذکورہ درخواست باقاعدہ طور پر سی سی ڈی کے نامزد پبلک انفارمیشن آفیسر کو جمع کروائی گئی تھی، تاہم مقررہ چودہ روزہ مدت میں جواب موصول نہ ہونے پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-اے کے تحت پنجاب انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا گیا۔جب اس معاملے پر سی سی ڈی سے رابطہ کیا گیا تو ایک اعلیٰ افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ محکمہ مقررہ قانونی دائرہ کار اور ضوابط کے مطابق کمیشن کو جواب جمع کروائے گا۔ افسر کا کہنا تھا ہم اس شکایت پر تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط کی روشنی میں جواب جمع کروائیں گے۔پنجاب انفارمیشن کمیشن نے اس شکایت کی باضابطہ سماعت کے لیے 19 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے اور متعلقہ محکمے کو تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔ آر ٹی آئی قانون کے تحت تمام سرکاری ادارے عوامی معلومات کی فراہمی کے پابند ہیں، اور انفارمیشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ معلومات کی فراہمی کا حکم دے، انکوائری کرے اور عدم تعاون کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائے۔تاہم پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی شق 13 (1) کے تحت پنجاب انفارمیشن کمیشن بعض صورتوں میں معلومات کی فراہمی سے استثنیٰ دے سکتا ہے، اگر یہ سمجھا جائے کہ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں، قومی سلامتی یا دیگر تحفظ یافتہ مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ایسی کسی بھی استثنیٰ کی صورت میں وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرنا لازمی ہے۔یہ معاملہ اب ان قانونی شقوں کے تناظر میں پرکھا جائے گا، جن کا مقصد ایک طرف ریاستی اداروں کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور دوسری طرف حساس معلومات کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔