نئے گیس کنکشن کے خواہشمندوں کو سستی آر ایل این جی فراہم کی جائیگی

04 اگست ، 2025

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت گھریلو اور تجارتی شعبوں میں نئے گیس کنکشن کے خواہشمندوں کو درآمد شدہ گیس آر ایل این جی فراہم کی جائے گی، جو کہ ایل پی جی کے مقابلے میں 31.25 فیصد سستی ہوگی۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ نئے گیس صارفین کو موجودہ گھریلو صارفین کے برابر نہیں سمجھا جائے گا جن کے لیے سلیب کے لحاظ سے 12 مختلف کیٹیگریز موجود ہیں۔ اس پیش رفت سے باخبر ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان اس وقت ملک میں آر ایل این جی (درآمد شدہ گیس) کی اضافی مقدار کے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے، اور حکام چاہتے ہیں کہ یہ گیس ملک بھر میں نئے گیس کنکشن کے خواہشمند افراد کو فراہم کی جائے۔ حکومت نے 2021 سے عائد گیس کنکشنز پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آر ایل این جی کی قیمت اب بھی ایل پی جی کے مقابلے میں 20 سے 25 فیصد کم ہے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آر ایل این جی پائپ کے ذریعے فراہم کی جانے والی گیس ہوگی۔ اس فیصلے کی سمری منظوری کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کو بھیج دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے اصولی طور پر اس اقدام کی منظوری دے دی ہے۔ سی سی او ای کی منظوری کے بعد، ایک میڈیا مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ لوگوں کو ایل پی جی کے بجائے آر ایل این جی استعمال کرنے کی ترغیب دی جا سکے، کیونکہ آر ایل این جی کی قیمت 3300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جبکہ ایل پی جی کی قیمت 4800 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایل این جی کی قیمت 1500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سستی ہے۔ ایل پی جی سلنڈر کا استعمال بعض اوقات ناقص معیار کی وجہ سے زندگیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایل پی جی کے ناقص معیار کی وجہ سے برتن کالے ہو جاتے ہیں، جبکہ آر ایل این جی ایک معیاری گیس ہے جو قدرتی گیس سے بھی بہتر ہے۔ ہمارے پاس گھریلو گیس کنکشن کے لیے 32 لاکھ درخواستیں موجود ہیں۔ ان میں سے تقریباً 3 لاکھ درخواست گزاروں نے ڈیمانڈ نوٹس کے تحت کنکشن چارجز ادا کر دیے ہیں۔ ان میں سے 5 سے 6 ہزار افراد نے فوری کنکشن کے لیے فی کس 25 ہزار روپے کی فیس بھی جمع کروائی ہے۔ 10 مرلہ کے مکان میں رہنے والے گھریلو درخواست گزاروں کے لیے فیس 21 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ 10 مرلہ سے بڑے مکان میں رہنے والوں کے لیے یہ فیس 23 ہزار روپے ہوگی۔ جوں ہی گیس کنکشن کا عمل مکمل ہوگا، معاہدہ پر دستخط کے وقت 20 ہزار روپے کا سیکورٹی ڈپازٹ بھی ادا کرنا ہوگا۔ جن درخواست گزاروں نے پہلے سے کچھ رقم ادا کر رکھی ہے، انہیں بقیہ فرق ادا کرنا پڑے گا۔ پہلے سال میں ہم توقع کر رہے ہیں کہ 3 لاکھ درخواست گزاروں کو درآمد شدہ گیس فراہم کی جائے گی، جس کی قیمت ڈالر کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے، اور دوسرے سال یہ کنکشنز بڑھا کر 6 لاکھ تک کر دیے جائیں گے۔ 2017 میں 30 ہزار گیس کنکشنز دیے گئے تھے، جو کہ 300 ہاؤسنگ سوسائٹیز میں فراہم کیے گئے تھے اور ان کی مجموعی آر ایل این جی کھپت صرف 1 ایم ایم سی ایف ڈی (ملین مکعب فٹ یومیہ) تھی۔