گلگت، 4 ارب بحالی فنڈ کا اعلان، قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، وزیراعظم

05 اگست ، 2025

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے بروقت تیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈوانس وارننگ سسٹم وقت کی ضرورت ہے، انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے 4ارب روپے کے فنڈ کا اعلان کرتا ہوں، وزارت ماحولیاتی تبدیلی سیلاب اور دیگر آفات سے متاثرہ علاقوں کیلئے عالمی فنڈز لیکر آئے، پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر 10 ممالک میں شامل، قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق پروگرام 7سال سے صرف کاغذوں میں چل رہا ہے، اب جو ٹائم لائن دی ہے اس میں ایک گھنٹے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا، متاثرہ عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آیا ہوں، دوباراہ آبادکاری تک دورے کرتا رہوں گا،گلگت بلتستان کے علاقوں کیلئے 100 میگا واٹ کا شمسی منصوبہ جلد فعال ہو گا، دانش اسکول کا جلد سنگ بنیاد رکھا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو بارشوں اور سیلاب متاثرین میں امدادی چیکس تقسیم کرنے کی تقریب اور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے فی کس امدادی چیکس دیئے گئے جبکہ شدید زخمیوں کو فی کس 5 لاکھ روپے کے چیکس بھی دیئے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران کلائوڈ برسٹ ہوا، ملک کے مختلف علاقوں میں بارشیں، طغیانی اور سیلاب آیا جس سے کئی افراد جاں بحق ہو گئے، انکے گھر بہہ گئے، املاک کو نقصان پہنچا، اللہ تعالی جاں بحق ہونے والوں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا، اس میں سرفہرست ایڈوانس وارننگ سسٹم ہے، یہ بڑا متحرک اور فعال نظام ہے جو یہاں موجود ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بحالی اور تعمیرنو کیلئے وزارت مواصلات کام کر رہی ہے، واپڈا کے منصوبہ پر وزیر پانی معین وٹو تفصیلی جائزہ لے کر جلد بریفنگ دینگے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ شامل ہیں، اس میں گورنر اور وزیراعلی گلگت بلتستان سے بھی رائے لی جائیگی۔ اس موقع پر تقریب سے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں گورنر گلگت بلتستان، وزیراعلی گلگت بلتستان، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر سمیت اعلی حکام موجود تھے۔ علاوہ ازیں گلگت میں حالیہ بارشوں و سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے اقدامات کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہرسال موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہی ہورہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان میں مختلف مقامات پر بادل پھٹنے سے شدید تباہی ہوئی جس سے بابوسر، گانچھے، دیامر سمیت کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔ انہوں نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں ، دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالےسے بہت کانفرنسز ہوتی ہیں جن میں ہم بھی شرکت کرتے ہیں ، دنیا سے ریزیلئنٹ انفراسٹرکچر کے حوالے سے دنیا سے فنڈز لے کر آئیں کیونکہ گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر سمیت پورا ملک موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہورہا ہے۔