وزیراعظم نے ہدایت دی عوام کو ہر ممکن ریلیف دیا جائے،وزیر پٹرولیم

05 اگست ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جیوکے پروگرام ʼʼکیپٹل ٹاکʼʼ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی ہے کہ عوام کو ہر ممکن ریلیف دیا جائے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو ہم نے فائدہ عوام تک پہنچایا آئندہ بھی ایسا کریں گے۔گیس کے نئے کنکشن سے پاپندی ہٹائی جاسکتی ہے۔میزبان حامد میر نے کہا کہ ٹرمپ نے پچھلے دنوں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں تیل کے ذخائر موجود ہیں لوگ جاننا چاہتے ہیں واقعی اگر ہیں تو کہاں ہیں۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کہتے ہیں کہ دو تین ارب کی گیس ہم ضائع کرتے ہیں اور وہ خرچہ صارفین سے پورا کیا جاتا ہے ۔پاک ایران گیس پراجیکٹ سے متعلق دونوں اطراف کے لوگ چاہتے ہیں کہ عالمی عدالت میں یہ معاملہ نہ جائے اور ایران کے سپریم لیڈر نے خاص طور پر ایرنی صدر کو ہدایت دی ہے کہ یہ معاملہ بات چیت سے حل کریں اور ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کو یقین ہے کہ معاملہ بات چیت سے حل ہوجائے گا۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ شہباز شریف کی طرف سے واضح ہدایات تھیں کہ جو بھی عوام کے لیے آسانی کرسکتے ہیں وہ کریں۔ عالمی سطح پر کمی آنا شروع ہوئی تو ہم نے وہ عوام کو منتقل کیا اور آگے بھی قیمتیں کم ہوں گی تو وہ بھی منتقل کی جائیں گی۔ جہاں تک ڈیزل کی قیمتوں کی بات ہے تو جب سے الیکٹرک سواریوں کی طرف رحجان بڑھا ہے تو پیٹرول قیمتیں نیچے آرہی ہیں جبکہ ہیوی ویکلز کے متبادل بڑی الیکٹرک گاڑیاں نہیں آئی ہیں اور ڈیزل کی ڈیمانڈ برقرار ہے۔ علی پرویز ملک نے ٹرمپ کے حالیہ بیان سے متعلق کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی ہو رہی ہے ۔ 2015 میں یو ایس ای آئی ڈی کا ایک پراجیکٹ تھا جس کے مطابق ہم نے چیزیں کنڈیکٹ کی تھیں۔ یو ایس ای آئی ڈی رپورٹ نے جو تخمینہ دیئے ہیں اور امریکی، چائنیز ، ترکی اور کویتی کمپنیاں دلچسپی رکھتی ہیں ہم سے رجوع کر رہی ہیں اور یہ کمپنیاں ہمارے ساتھ مل کر کنویں کھودیں گی اور وہاں سے اگر ذخائر ملتے ہیں تو اسے عوام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ آر ایل این جی بنیادی طور پر منگوایا گیا تھا پاور ڈویژن نے اپنے پاور پلان کو رن کرنا ہے اس کے بعد کئی وجوہات کی وجہ سے پاور پلانٹس نے کہا کہ پوری مقدار نہیں اٹھائیں گے آدھی اٹھائیں گے اس بات پر قطرپر کیا ڈیفالٹ ہوسکتا تھا نہیں ہوسکتا تھا ہمیں مجبوراً قطر سے پورا کارگو اٹھانا پڑا پاکستانی گیس کو بند کرنا پڑا اور مہنگے ایندھن انجیکٹ کرنا پڑا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ وہاں پہنچ گیا جہاں بجلی کا تھا۔