ٹرمپ اور مودی کے مابین کشیدگی ہے، فاروق عبداللہ

05 اگست ، 2025

نئی دہلی( جنگ نیوز) مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر فاروق عبداللہ نے بھارت کی بین الاقوامی سفارتی تنہائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ اور مودی کے مابین کشیدگی ہے، دونوں مضبوط لیڈر ہیں کوئی جھکنا نہیں چاہتاامریکا نے 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا ہے اور امریکی پالیسی پاکستان کےلیے زیادہ نرم ہورہی ہے۔ ان کا یہ ردِ عمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارت آج دنیا کے اسٹیج پر "تنہا" ہو چکا ہے، اور اس کا رویہ اس کے اپنے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی بھارت کے بجائے پاکستان کے لیے زیادہ نرم ہوتی جا رہی ہے، اور بھارت کو اس کے سفارتی رویے کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔"ہمارے پاس اب کوئی دوست نہیں بچا، حتیٰ کہ ہمارے ہمسائے بھی ہم سے دور ہو چکے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ خود کو ان سے برتر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ ہمیں ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت تھی۔ اسی سوچ کے تحت اندرا گاندھی نے سارک (SAARC) تشکیل دیا تھا تاکہ خطے کے ممالک کو قریب لایا جا سکے اور باہمی معاشی مسائل کو حل کیا جا سکے،" فاروق عبداللہ نے ANI سے گفتگو میں کہا۔انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے پاکستان سے اپنے تعلقات بہتر کر لیے ہیں، اسے معاشی فوائد دیے جا رہے ہیں، جبکہ بھارت پر دباؤ بڑھا دیا گیا ہے۔"اچانک ٹرمپ پاکستان کے بہت قریب آ گئے ہیں۔ ہمیں روسی تیل نہ خریدنے کا کہا جا رہا ہے، لیکن پاکستان کو وعدہ دیا جا رہا ہے کہ امریکہ انہیں خام تیل فراہم کرے گا اور اسے ریفائن بھی کرے گا تاکہ وہاں پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں کم ہو جائیں۔ چین پہلے ہی ان کے ساتھ کھڑا ہے،" عبداللہ نے مزید کہا۔فاروق عبداللہ کے مطابق بھارتی روپیہ کی گراوٹ اور معاشی دباؤ کی اصل وجہ ٹرمپ اور مودی کے مابین کشیدگی ہے۔