5 پاکستانی طیارے گرائے، روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم استعمال کیے، انڈین ایئر چیف اے پی سنگھ

10 اگست ، 2025

اسلام آباد، نئی دہلی (نیوز رپورٹر، ایجنسیاں) بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل اے پی سنگھ نے جنگ کے 3 ماہ بعد مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے جھڑپوں کے دوران 5 پاکستانی لڑاکا اور ایک نگرانی طیارہ مار گرایا تھا، زیادہ تر طیارے روسی ساختہ S-400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم سے گرائے گئے ہیں، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کوئی طیارہ نہیں گرا، آزادانہ ذرائع سے طیاروں کے ذخیرے کی تصدیق کرا لیں، پاکستان نے 6بھارتی طیارے، S-400دفاعی نظام،ڈونز، متعدد فضائی اڈے تباہ کیے، جنگیں جھوٹ سے نہیں، اخلاقی برتری، پیشہ ورانہ مہارت سے جیتی جاتی ہیں،3ماہ بعد یہ مزاحیہ بیانیہ سیاسی فائدے کیلئے گھڑا گیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے جنوبی شہر بنگلورو میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ زیادہ تر پاکستانی طیارے بھارت کے روسی ساختہ ایسـ400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام سے مار گرائے گئے، انہوں نے دعوے کی تصدیق کیلئے الیکٹرانک ٹریکنگ ڈیٹا کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کم از کم 5 لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق ہے اور ایک بڑا طیارہ بھی۔ انہوں نے کہا کہ بڑا طیارہ جو کہ ممکنہ طور پر ایک نگرانی کا طیارہ ہو سکتا ہے، 300 کلومیٹر (186 میل) کے فاصلے پر مار گرایا گیا۔ اے پی سنگھ نے کہا کہ یہ دراصل تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ شدہ زمین سے فضا میں مار کرنے والا حملہ ہے، جس پر مجمع نے تالیاں بجائیں جس میں فضائیہ کے موجودہ افسران، سابق فوجی اور حکومت و صنعت کے اہلکار شامل تھے۔پاکستان کی فوج نے فوری طور پر اس بیان پر تبصرہ نہیں کیا، اے پی سنگھ نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے لڑاکا طیارے مار گرائے گئے لیکن کہا کہ فضائی حملوں میں ایک اور نگرانی کے طیارے اور کچھ ایفـ16 طیاروں کو بھی نشانہ بنایا جو جنوب مشرقی پاکستان کے 2 فضائی اڈوں پر کھڑے تھے۔ دریں اثناء وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے کسی بھی ایک طیارے کونہ مار گرایا ہے اور نہ ہی تباہ کیا ہے۔عالمی سطح پر بھارتی طیارے گرنے کے اعترافات سامنے آئے، حقیقت عیاں کرنے کیلئے دونوں ممالک کے طیاروں کے موجودہ ذخیرے کی آزادانہ تصدیق کرالیں۔ہفتہ کو بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے بیان پر اپنے ردعمل میں سوشل میڈیا ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستانی طیاروں کی مبینہ تباہی کے حوالے سے ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے تاخیر سے کیے گئے دعوے اتنے ہی ناقابل فہم اور غیرموزوں وقت پر ہیں ۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ کس طرح سینئر بھارتی فوجی افسران کو بھارتی سیاست دانوں کی سٹریٹجک دور اندیشی کی وجہ سے ہونے والی ناکامی سے بچانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نےکہا کہ تین مہینوں تک ایساکوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا جب کہ پاکستان نے اس کے فورا ًبعد بین الاقوامی میڈیا کو تفصیلی تکنیکی بریفنگ دی اور آزاد مبصرین ، عالمی رہنماؤں، سینئر بھارتی سیاستدانوں سے لے کر غیر ملکی انٹیلی جنس کے جائزوں تک کے ذرائع سے رافیل سمیت متعدد بھارتی طیاروں کے نقصان کا بڑے پیمانے پر اعتراف کیا گیا۔بھارت ایک بھی پاکستانی طیارہ کو مار یا تباہ نہیں کرسکا۔ پاکستان نے بھارت کے 6 جنگی طیارے ، ایس 400 ایئر ڈیفنس بیٹریاں اور بھارت کے بغیر پائلٹ کے طیارے تباہ کر دیئے جبکہ متعدد بھارتی ایئربیسز کو نقصان پہنچایا۔ بھارتی افواج کے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے نقصانات بھی نسبتا ًزیادہ تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر سچائی پر سوال ہے تو دونوں فریق اپنے طیاروں کی انوینٹریوں کو آزادانہ تصدیق کیلئے کھول دیں کیونکہ ہماراگمان ہے کہ اس سے وہ حقیقت سامنے آئے گی جو بھارت چھپانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگیں جھوٹ سے نہیں بلکہ اخلاقیات، قومی عزم اور پیشہ ورانہ قابلیت سے جیتی جاتی ہیں۔ اندرونی سیاسی مصلحتوں کیلئے تیار کی گئی ایسی مزاحیہ داستانیں جوہری ماحول میں تزویراتی غلط حساب کتاب کے سنگین خطرات کو بڑھاتی ہیں جیسا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ظاہر ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ہر خلاف ورزی پر تیز، یقینی اور بھرپور ردعمل دیا جائے گا اور آنے والی کسی بھی کشیدگی کی ذمہ داری مکمل طور پر سٹریٹجک طور پر حقیقت سے نا آشنا رہنمائوں پر عائد ہو گی جو وقتی سیاسی فائدے کے لیے جنوبی ایشیا کے امن کے ساتھ جوا کھیلتے ہیں۔