بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش کی وجہ سکیورٹی خدشات ہیں،حکومت

16 اگست ، 2025

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے ، خصوصی رپورٹر )وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینٹ کو بتایا کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش کی وجہ سکیورٹی خدشات ہیں،جن دنوں میں انٹرنیٹ بندش رہی اس دوران خریدے گئے پیکج محفوظ رہیں گے اور اگلے ماہ منتقل ہوں گے، جمعہ کو ایوان بالا میں سنیٹر کامران مرتضیٰ کے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں 31 اگست تک انٹرنیٹ عارضی معطل کرنے کا آرڈرکیا گیا جس کی وجہ سکیورٹی خدشات تھے تاہم صوبے میں پروازیں بحال ہیں، ٹرین اور سڑک کے راستے بھی کھلے ہیں ، کسی کو شوق نہیں کہ سروسز کو معطل کریں، جہاں دہشتگردی ہوتی ہے وہاں یہ سب اقدامات کئے جاتے ہیں اور اس کا مقصد امن وامان کی صورتحال کو بہتربنانا ہے، جن دنوں میں انٹرنیٹ بندش رہی اس دوران خریدے گئے پیکج محفوظ رہیں گے اور اگلے ماہ منتقل ہوں گے، قبل ازیں اپنے توجہ دلائو نوٹس پر سنیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا بلوچستان میں موبائل سروسز معطل ہیں اگست کا مہینہ شروع ہوا ہمارے لئے آزادی کے دن ہوتے ہیں پاکستان خوشی منا رہا ہوتا ہے دوسری طرف بلوچستان میں مواصلات کے ذ رائع بند کر دیئے ہیں ، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بھی پورے بلوچستان میں بند ہیں ، پہلے کسی پارٹی کے نام پر دیوار لگائی گئی تھی ، انہوں نے کہا انٹرنیٹ ہمارا دستوری اور بنیادی حق ہے ہم نے پے منٹ کی ہوتی ہے اس کو استعمال کریں ، تمام رابطے بند ہو جاتے ہیں ، جہاز بھی میسر نہیں ہوتے ، دو دن سے فلائٹس نہیں ، صبح والی فلائٹس شام اور رات کو جاتی ہے ٹکٹ چار گنا تک بڑھ جاتی ہے ، اگر سوئچ آف کرنے سے سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہو گی تو باقی ملک میں یہ سہولت حاصل ہے ہمیں یہ سہولت کیوں میسر نہیں ، بلوچستان کی اکثریتی عوام پاکستان کی حامی ہیں ان کے ساتھ یہ سلوک روا نہ رکھا جائے ۔