اوگرا کا RLNG کی قیمتوں میں 1.46 فیصد تک کا اضافہ

16 اگست ، 2025

اسلام آباد (اسرار خان) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اگست کے لیے ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں میں 1.46 فیصد تک کا اضافہ کر دیا ہے۔ اوگرا کے مطابق، اس ایڈجسٹمنٹ کی بنیادی وجہ ٹرمینل چارجز میں معمولی اضافہ ہے۔ نظرثانی شدہ یہ نئی شرحیں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ دونوں پر لاگو ہوں گی۔ یہ اضافہ فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) پر 0.154 ڈالر تک کا ہے جو وفاقی پالیسی کی ہدایات کے مطابق ٹرانسمیشن اور تقسیم کے اخراجات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایس این جی پی ایل صارفین کے لیے ٹرانسمیشن کی قیمت 1.32 فیصد بڑھ کر 10.977 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے، جبکہ تقسیم کی شرح جولائی 2025 کے مقابلے میں 1.33 فیصد بڑھ کر 11.733 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے۔ ایس ایس جی سی ایل کے لیے ٹرانسمیشن کی قیمت اب 9.6097 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، اور تقسیم کی شرح 1.46 فیصد بڑھ کر 10.7285 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی ہے۔ تازہ ترین قیمتوں میں ٹرمینل چارجز، ٹرانسمیشن نقصانات، بندرگاہ پر سامان سنبھالنے کے اخراجات، اور سرکاری امپورٹر پاکستان اسٹیٹ آئل کے منافع شامل ہیں۔ اوسط فروخت قیمتوں کا تعین اگست میں پی ایس او کی جانب سے درآمد کیے گئے 10 ایل این جی کارگو کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ قطر کے ساتھ اپنے دو طویل مدتی سپلائی معاہدوں کے تحت پی ایس او برینٹ کروڈ آئل کی قیمت کے 13.37 فیصد اور 10.20 فیصد کے تناسب سے ایل این جی خریدتا ہے۔ گزشتہ ماہ موصول ہونے والے 10 ایل این جی کارگو میں سے پانچ مہنگی یعنی 13.37 فیصد والی شرح پر جبکہ باقی پانچ سستی یعنی 10.20 فیصد والی شرح پر حاصل کیے گئے۔ اوگرا نے کہا کہ قیمتوں میں نظرثانی حکومت کی پالیسی ہدایات کے مطابق کی گئی ہے اور اس میں ایل این جی کی درآمدات، ری گیسیفیکیشن، اور متعلقہ انفرا اسٹرکچر کے اخراجات کو شامل کیا گیا ہے۔ آر ایل این جی پاکستان کے توانائی کے مجموعے میں خاص اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر گھریلو گیس کی کمی کے دوران، اور ماہانہ قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ کا مقصد عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور کرنسی کی تبدیلیوں کے مطابق قیمتوں کو ہم آہنگ کرنا ہے۔