سینیٹ میں بھی انسداد دہشت گردی ترمیمی بل منظور، اپوزیشن ارکان کے نعرے، واک آؤٹ کرگئ

20 اگست ، 2025

 اسلام آباد( ناصر چشتی ) قومی اسمبلی کے بعدسینیٹ نے بھی  اپوزیشن کے اعتراض کے باوجودکثرت رائے سے انسداد دہشت گردی (ترمیمی)بل2025منظور کرلیااس موقع پر اپوزیشن کےارکان نے نعرہ بازی کی اور واک آؤٹ  کر گئے جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نجات کے لئے ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر قانون سازی کرنا ہوگی۔منگل کو ایوان بالا میں وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے تحریک پیش کی کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مزید ترمیم کرنے کا بل قومی اسمبلی سے منظور کردہ صورت میں زیر بحث لانے کی اجازت دی جائے، اس پر اپوزیشن کی جانب سے اعتراض کیاگیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ محرم علی کیس میں، میں بھی اس کی پروسیڈنگ کا حصہ رہا۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد اپوزیشن کی مشاورت سے یہ ترمیم کی گئی تھی۔آرٹیکل 10 میں نظر بندی کے قانون کو واضح کیا گیا ہے اگر یہ 1973 کے آئین سے متصادم ہوا تو میں سر تسلیم خم کروں گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ان آئینی ضمانتوں کے مطابق ہے تو ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے،ان دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار فورسز کو تحفظ دینا اس پارلیمان کا کام ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ صرف افواج کے زیر استعمال نہیں ہوگا۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ افواج کو سول انتظامیہ کی مدد کے کئےطلب کرسکتی ہیں، فوج وہیں پر اس ترمیم کا حق استعمال کرسکے گی، صوبوں میں استعمال ہوگی تو اس کی صوبائی حکومتیں منظوری دیں گے۔یہ نظر بندی یا تحویل تین ماہ کے لئے ہوگی۔کسی کے بارے میں مستند اطلاعات ہیں کہ سلامتی،امن وامان ریاست کی خودمختاری کے حوالے سے خطرات اور افراتفری کی صورت میں 90 دن کے لئے تحویل میں لے لیا جائے گا۔245 کے احکامات کو چیلنج کرنے کے لئے وفاقی یا صوبائی سطح پر ریویو بورڈ ہوں گے وہاں یہ تحویل چیلنج ہوگی اور اس کا فیصلہ ہونا ہے کہ اس میں توسیع یا خاتمہ کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ حفاظتی تحویل کے لیے شواہد اور ٹھوس وجوہات ہوں۔اس کی انکوائری کرنی ہے لاپتہ یا غائب نہیں کرنا، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ مقصد ہے۔احد چیمہ کو اٹھایا گیا سواتین سال جیل میں رکھا۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون رائج الوقت تھا۔