انسداد تمباکو آرڈننس پر عملدارآمد نہ ہو سکا،ٹوبیکو کنٹرول سیل غیر فعال

24 اگست ، 2025

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)انسداد تمباکو آرڈننس 2002 پر عملدارآمد نہ ہوسکا،سرکاری دفاتر،عوامی ٹرانسپورٹ،پبلک مقامات میں تمباکو نوشی جاری،ٹوبیکو کنٹرول سیل غیر فعال، رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں سالانہ 40 کھرب سگریٹ پیئے جاتے ہیں، پاکستان میں تمباکو نوشی کے استعمال سے روزانہ274لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ پانچ ہزار پاکستانی روانہ سگریٹ نوشی کے باعث ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں جبکہ55فیصد گھرانوں میں کم از کم ایک فرد ضرور تمباکو نوش ہوتا ہے واضح رہے کہ انسداد تمباکو آرڈننس کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی قسم کی تمباکو نوشی کی اشیاء کی فروخت پر مکمل پابندی ہےاس طرح پبلک مقامات ،سرکاری دفاتر،عوامی ٹرانسپورٹ میںتمباکونوشی جرم ہےآرڈینینس کے مطابق تعلیمی اد اروں کے اطراف میں پچاس میٹر تک تمباکو نوشی کی اشیاء کی خرید وفروخت پر مکمل پابندی عائد ہے، کوئی بھی دکاندار کُھلا سیگریٹ نہیں بیچ سکتاان قوانین کے علاوہ بھی دیگر اہم قوانین پر عمل درآمد انسداد تمباکو نوشی کے آرڈننس کے شامل ہیں جس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ اور قید بھی کیاجاسکتاہے عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ انسداد تمباکو آرڈننس 2002 پر عملدرآمد کروایا جائے۔