پاک چین 8.5 ارب ڈالر کے معاہدے

05 ستمبر ، 2025

اسلام آ باد( نیوز رپورٹر)پاکستان اور چین نے زراعت ‘الیکٹرک وہیکلز‘شمسی توانائی‘صحت‘ کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز‘ آئرن اورا سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 8 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کے21 مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام سرخ فیتے ختم کریں گے‘چین اور پاکستان کے مشترکہ شراکت داروں کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدوں کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر ہے‘ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے جن کی مالیت سات ارب ڈالر ہے یوں مجموعی طور پر آج دستخط ہونے والے مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی مالیت 8 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے‘ اقتصادی ترقی کا لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہوکر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگا ‘ جوائنٹ ایکشن پلان پر دستخط اہم سنگ میل ہے ‘پاک چین بی ٹو بی کانفرنس اور مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کیلئے لانگ مارچ ہوگا‘یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی‘منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی‘پاکستان چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعاون چاہتا ہے‘ چین کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل ہے‘چینی سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،چینی صنعتوں کو پاکستان میں منتقلی سے سستی لیبر سمیت دیگر سہولیات میسر ہوں گی،پاکستان میں چینی بھائیوں کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ جمعرات کو بیجنگ میںپاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے موقع پر مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے گئے۔اس موقع پر نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار،متعلقہ وفاقی وزراء اور ممتاز پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔1اعشاریہ 54 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز ہائی ٹیک‘ زراعت‘ میڈیکل و صحت ‘کیمیکل و پیٹرو کیمیکل‘ آئرن سٹیل و تانبے، شمسی توانائی، الیکٹرک وہیکلز کے شعبوں سے متعلقہ کمپنیوں کے نمائندوں نے مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے۔پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا، صنعتیں بحال ہوئیں‘انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے، روڈ نیٹ ورک، اورنج لائن لاہور، ڈیمز اور دیگر بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی لیکن بدقسمتی سے درمیان میں یہ سلسلہ رک گیا لیکن آج نہ صرف یہ منصوبے بحال ہوئے بلکہ دوطرفہ اعتماد، باہمی احترام اور گرمجوشی میں اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، یہ سی پیک 2.0 بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے تجربات، مہارتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی شعبہ پر صرف کریں اور زراعت کو فروغ دیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور اقتصادی اشاریے مستقبل کی مثبت پیشرفت کی نشاندہی کر رہے ہیںاور اب ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں چین کے تعاون سے دیگر ممالک کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ چینی بھائیوں اور بہنوں کی پاکستان میں سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، آئیں آگے بڑھیں اور معاشی منظرنامہ کو تبدیل کریں اور چین اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ چینی بھائیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے دو تین ہفتے قبل چینی گروپ کے لوگوں کی نشاندہی پر درپیش مسئلہ کو 24 گھنٹوں میں حل کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اسلام آباد میں چینی گروپ نے ملاقات میں بتایا کہ انہیں بعض مسائل کا سامنا ہے جس پر میں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور وہ مسئلہ حل کر دیا گیا‘جلد ہم چینی اور پاکستانی سرمایہ کاری کے ذریعے صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں گے۔سی پیک 2.0 میرے لئے سب سے اولین ترجیح ہے۔ہم چینی ماڈل کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگااور یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگا‘اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہم آج شام سے ترقی کا لانگ مارچ شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی کی منزل پہنچنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔