دریائے چناب میں پانی کا لیول خطرناک حد تک بلند، زمیندارہ بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں زیرآب

05 ستمبر ، 2025

ملتان ،شجاع آباد ،جلال پور،وہاڑی ،خانیوال ،مظفر گڑھ ،عبدالحکیم،میلسی (سٹاف رپورٹر ،نمائندگان جنگ ، نامہ نگار)دریائے چناب میں پانی کا لیول خطرناک حد تک بلند،زمیندارہ بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں زیرآب،پانی شیر شاہ ٹول پلازہ تک پہنچ گیا،دو نوجوان سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق،۔موچی پورہ کے علاقہ میں اقبال ساندھی نامی نوجوان نقل مکانی کرتے ہوئے سیلابی پانی میں ڈوب کر دم توڑ گیا۔پولیس تھانہ سٹی شجاع آباد نے نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا۔بگڑیں کے علاقہ میں جعفر نامی نوجوان اپنے بھائی اور والد کے ساتھ سیلابی پانی میں پھنس گیا۔والد اور بھائی کو بچا لیا گیا لیکن جعفر جاں بحق ہوگیا۔سیلابی ریلا شدت اختیار کر گیا اور تیزی سے ملتان شہر کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ لنک کینال سمیت متعدد نہروں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔ شیر شاہ کے مقام پر زمیندارہ بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں زیرآب آگئیں جبکہ سیلابی پانی شیر شاہ ٹول پلازہ اور بستی کھوکھراں سمیت مختلف علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔اہل علاقہ کے مطابق یہ سیلاب گزشتہ تمام ریلاوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہے۔ شیر شاہ کے بند ٹوٹنے سے بستی گاگرہ، بستی اکبر شاہ اور دیگر قریبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔ اسی دوران بستی لنگڑیال بمقام منڈاں والا ہسپتال کے قریب سکندری نالہ کا بند بھی لیک ہوگیا ، کینٹ کنال ویو کے بیک سائیڈ پر نہری پشت کو ایکٹیویٹر مشین کے ذریعے مضبوط کرنے کا کام جاری ہے، تاہم پانی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور سکندری نالہ لبالب بھر چکا ہے۔ہیڈ محمد والا پر پانی کی سطح 416 فٹ تک جا پہنچی ہے جس کے بعد پانڈ ایریا بھی پانی سے بھر گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شیر شاہ کا مرکزی بند بروقت نہ توڑا گیا تو پانی شیر شاہ ٹول پلازہ سے آگے بڑھ کر شہر کا رخ کرسکتا ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کا اندیشہ ہے۔ بند بوسن اور بستی جھوک وینس میں بھی پانی داخل ہو چکا ہے جبکہ دریائے راوی سے آنے والا پانی کبیر والا کے راستے دریائے چناب میں شامل ہو کر صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ملتان میں سدھنائی کینال میں ہیڈ سدھنائی سے آنے والے پانی کے دباؤ سے شگاف پڑنے سے بستی کھوکھراں سمیت بہت بڑی آبادی زیر آب آگئی۔اس ضمن میں انتظامیہ کا کہنا ہے سدھنائی کینال میں گنجائش سے 4 گنا زیادہ پانی آچکا ہے، ملتان روڈ پر رانگو نہر میں دو مقامات پر شگاف پڑ گئے۔ رانگو نہر کے شگاف سے درجنوں آبادیاں زیرِ آب آ گئیں، سدھنائی لنک کینال کے رانگو نہر کے شگاف کو پُر کیا جا رہا ہے جبکہ شجاع آباد کینال میں بھی پانی آنے سے طغیانی آگئی ہے، کمشنر ملتان کے مطابق سیلابی ریلا ملتان کی حدود سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے اکبر فلڈ بند پر پانی کا دباؤ ہے۔ آبادی کو بچانے کیلئے ہنگامی اقدامات جاری ہیں، اس حوالے سے محکمہ انہار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح 414 فٹ ہو گئی ہے، اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح 417 فٹ تک پہنچنے پر ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالا جائے گا۔ اکبر پور، علمدی سورہ، بندہ سندیلہ، بستی بخش والا، بستی کوتوال مکمل ڈوب چکی ہیں ۔کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے کہا ہے کہ ہیڈ محمد والا پر پانی کا گیج 413.66 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کریٹیکل لیول 417 فٹ ہے،جلال پور پیر والہ میں دریائے چناب اور دریائے ستلج کی تباہ کاریاں جاری ہیں، موضع شہنی میانی میں کوٹھی موڑ کے مقام پر شمال سے آنے والے دریائے چناب اور مشرق سے آنے والے دریائے ستلج کے پانی یکجا ہو گئے۔دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ خطرناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ ہیڈ اسلام کے قریب موضع جھیڈو کا عارضی بند بپھرے ہوئے ریلے کی نذر ہوگیا جس کے نتیجے میں موضع شرف، اکبر شاہ، فتوالہ چکر سمیت درجنوں رہائشی آبادیاں زیرِ آب آگئیں۔ بند ٹوٹنے سے سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جن کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جارہی ہے، مقامی آبادی اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی میں مصروف ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ پانی تیزی سے گاؤں میں داخل ہوا جس سے قیمتی سامان بھی ڈوب گیا۔میلسیسائفن کے مقام پردریایئے ستلج میں درمیانے درجے کی طغیانی شروع ہو گئی سیلابی ریلے کی وجہ مختلف علاقوں میں سیلاب کے خطرات بڑھ گئے متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت بندوں کو مضبوط کر رہے ہیں سیلابی ریلے سے ہزاروں ایکڑ اراضی متاثرہوگئی۔