آبی گزرگاہوں سے ہوٹل اور آبادیوں کو ہٹانا ہوگا ، مصدق ملک

05 ستمبر ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ʼʼکیپٹل ٹاکʼʼ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ فی الحال سندھ کو سیلاب سے خطرہ نہیں ہے،دریائوں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا ہے وہ ایک دن کا نہیں ہے،وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ آبی گزرگاہوں کے راستوں میں ہوٹل اور آبادیوں کو ہٹانا ہوگا ، پیٹرن سیو غزہ مشتاق احمد خان نے بتایا کہ 44 ممالک کے شہری اور 70 سے زائد کشتیاں انسانی امداد کے لیے غزہ جا رہی ہیں یہ تاریخ کا سب سے بڑا فلوٹیلا ہے اور ممکن ہے کہ اسرائیل ان پر حملہ کرے یا گرفتار کرے لیکن قافلہ اپنی منزل ضرور پائے گا۔ میزبان حامد میر نے کہا کہ سیلاب کے باعث لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوچکی ہے اور اس سال و اگلے سال بڑے غذائی بحران کا خدشہ ہے۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اس دفعہ جو سیلاب آیا ہے یہ معمول کانہیں تھا اس طرح کے سیلاب 1955 سے چار ایسے سیلاب آئے ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ آنے والے سال میں مون سون شدید ہوگا ۔آبی گزر گاہوں پر جو ہوٹلز ہیں انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم نے آنے والے حالات سے نمٹنے کے لیے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ تین سو دن میں کرنا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ پنجند پر پانچ دریائوں کا پانی آتا ہے اور آگے جا کر چھٹا دریا سندھ بھی شامل ہوجاتا ہے ہماری کوشش ہے کہ پانی سات آٹھ لاکھ کیوسک تک رہے تاکہ سندھ میں تباہی نہ آئے اسی لیے بہت سی جگہ بریچ کیا گیا ہے ۔اگر ہمارے پاس اسٹوریج ہو تو ہم پانی کو ریگولیٹ کرسکتے ہیں اس طرح سے ربیع اور خریف کی دونوں فصلوں کے لیے پانی موجود ہو۔اگر ہمارے پاس کینال کا سسٹم ہو جس سے ہم پانی کا زور توڑ سکیں تو جتنا بھی بڑا سیلاب ہو اس کی شدت میں کمی آجائے گی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ پنجاب کے دریائوں میں کٹ لگانا ٹھیک ہے تو پانی کیوں آگیا اگر پنجاب کی بربادی کوئی بربادی نہیں ہے تو آپ کو بھی پروگرام نہیں کرنے چاہئیں جب ہم تریموں ، پنجند کو یا کوٹری کو بچانے کے لیے پانی کو تقسیم کرنے کے لیے کٹ لگاتے ہیں وہ اس لیے لگاتے ہیں کہ ڈائون اسٹریم میں کہیں تباہی نہ آئے ۔وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے کہا کہ دریائوں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا ہے وہ ایک دن کا نہیں ہے سندھ اور پنجاب کو چھ دریائوں کی ضرورت تھی ۔ پوسٹ لائن سو کلو میٹر تھا جو مختصر ہوتے ہوتے دس فیصد رہ گیا ہے۔