خیبرپختونخوا کے ذمہ واجب الآدا قرضوں کا مجموعی حجم 764 ارب سے متجاوز

08 ستمبر ، 2025

پشاور(گلزار محمد خان)خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ کے ذمہ واجب الادا ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں جس کے مطابق صوبہ پر قرضوں کا مجموعی حجم 764ارب 54کروڑ70لاکھ روپے ہے جن میں غیر ملکی قرضہ جات632 ارب44کروڑ اور8لاکھ روپے جبکہ مختلف ادوار میں مقامی بینکوں سے46ارب 44کروڑ کے قرضے حاصل کئے گئے ہیں،علی امین گنڈاپور کی موجودہ حکومت اب تک 85 ارب کا قرضہ لے چکی ہے  پی ڈی ایم کی نگران حکومت نے اپنے دور میں صوبہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 318 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے، تحریک انصاف کے پہلے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی حکومت نے 28 ارب 27 کروڑ اور 9 لاکھ روپے جبکہ وزیر اعلیٰ محمود خان کی تحریک انصاف حکومت نے اپنے دور میں 198 ارب 24 کروڑ اور 6 لاکھ روپے کا مجموعی قرضہ لیا تھا ، علی امین گنڈاپور کی موجودہ حکومت اب تک 85 ارب کا قرضہ لے چکی ہے،اسی طرح 2008 سے 2012 تک عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں 47 ارب 25 کروڑ 1 لاکھ روپے کا قرضہ حاصل کیا گیا تھا ، خیبرپختونخوا کے محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری دستاویز کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت مجموعی طور پر 764 ارب 57 کروڑ7 لاکھ روپے کا مقروض ہے جن میں 632 ارب 44 کروڑ8 لاکھ روپے کا بیرونی اور 46 ارب 44 کروڑ روپے کا مقامی قرضہ شامل ہے، دستاویز کے مطابق 30 جون 2007 تک صوبہ خیبر پختونخوا کت ذمہ کل واجب الآدا قرضہ صرف 96 کروڑ40 لاکھ روپے تھا،2008 سے 2012 تک عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں 47 ارب 25 کروڑ 1 لاکھ کا نیا قرضہ لیا گیا، 2013 میں پاکستان تحریک انصاف پہلی مرتبہ صوبہ میں برسر اقتدار آئی تو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی حکومت نے 2018 تک پانچ سالوں میں ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے 28 ارب 28 کروڑ9 لاکھ روپے کا قرضہ حاصل کیا ،اس کے بعد2019 میں تحریک انصاف کے دوسرے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ محمود خان نے 2023 تک 198 ارب روپے کے نئے قرضے لئے، تحریک انصاف حکومت کے بعد صوبہ میں پی ڈی ایم کی نگران حکومت نے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 2023 اور 2024 میں صوبہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 318 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے ، اسی طرح وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی تحریک انصاف حکومت اب تک 85 ارب روپے کا قرضہ لے چکی ہے,اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے جنگ کو بتایا کہ ہماری حکومت نے کسی قسم کا کوئی قرضہ نہیں لیا اور نہ ہی ہم نے کوئی معاہدہ کیا بلکہ پچھلے ادوار میں جو معاہدے ہوئے ان کے تحت ہمیں 140 ارب روپے ملنے تھے تاہم پچھلے سال میں اب تک صرف 85 ارب مل چکے ہیں جبکہ ہماری حکومت 50 ارب کا قرضہ واپس کر کی ہے ،انہوں نے کہا کہ نگران دور میں جو 318 ارب کے قرضے نظر آرہے ہیں وہ قرضے نہیں بلکہ زیادہ تر ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا ۔