ملتان کوبچانے کی کوششیں،سندھ میں بڑے سیلاب کا خطرہ،کراچی میں دن بھر بارش

10 ستمبر ، 2025

لاہور/کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک/ٹی وی رپورٹ)ہندوستان نے پھر پانی چھوڑدیا‘دریائے ستلج میں بڑے سیلاب کا الرٹ جاری ‘ملتان کو بچانے کی کوششیں ‘ٹیکنیکل کمیٹی کی رپورٹ  کے بعد شیرشاہ بندمیں  فی الحال شگاف  نہ ڈالنے کا فیصلہ ‘دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خطرہ ‘ گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ‘ کشمور کے کچے کے علاقے خطرے کی زد میں آگئے‘فیصل آباد میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ کراچی میں بھی دن بھربادل جم کربرسے‘شہر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا ‘شہرقائدمیں آئندہ ایک دو روز میں بارش کا نیا اسپیل آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے‘ پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 200 دیہات اور 2 لاکھ 24 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر نے دریائے ستلج میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کردیا، جس کے باعث دریائے ستلج میں پھر سے بڑے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے‘دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروزپور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح 41 ہزار 868 کیوسک تک بلند ہوئی، گڈو بیراج کے مقام پر اس وقت پانی کی آمد 4 لاکھ 43 ہزار 494 کیوسک جبکہ اخراج 4 لاکھ 34 ہزار294 کیوسک ہے۔ سیلابی صورتحال کے باعث کشمور کے کچے کے علاقے خطرے کی زد میں آگئے، کوٹ مٹھن کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا جس کے بعد کچے سے بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔سیلابی صورتحال کے باعث کچے کے تمام راستے منقطع ہوچکے، سکھر کے مقام پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے جس کے باعث لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 200 دیہات اور 2 لاکھ 24 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پنجاب سے آنے والا بڑا ریلا گڈو اور سکھر سے ہوتاہوا سیہون پہنچے گا جس کے باعث کچے میں بڑے سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی۔ادھر سکھر اور اطراف میں بارشوں کے باعث نہروں کے حفاظتی پشتے کمزور پڑنے لگے، پنوعاقل کے قریب کورائی واہ اور مہیسرو واہ میں 3 مقامات پرشگاف پڑگئے جس سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئیں۔