اسرائیل کا قطر میں حملہ، ترکیہ اگلا نشانہ ہو سکتا ہے، امریکی تھنک ٹینک

10 ستمبر ، 2025

کراچی (رفیق مانگٹ) اسرائیل نے قطر میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ کیا، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کا آخری ٹھکانہ ترکیہ اگلا نشانہ ہو سکتا ہے۔ترکیہ حماس رہنماؤں کو فوری ملک بدر کرے یا انکے ٹھکانوں سے 150 فٹ کے فاصلے پر رہے۔ امریکی تھنک ٹینک انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو مائیکل روبن کے مطابق ترکیے کی نیٹو رکنیت اسے اسرائیلی حملے سے تحفظ فراہم نہیں کریگی۔ اسرائیل اسے دہشت گردی کے سہولت کار کیخلاف جائز دفاع قرار دے سکتا ہے۔ نیٹو کا آرٹیکل پانچ، جو کہ ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ سمجھتا ہے، خود کار طور پر نافذ نہیں ہوتا اور امریکا، سویڈن یا فن لینڈ جیسے ممالک اسے ویٹو کر سکتے ہیں، جو ترکیہ سے ناراض ہیں۔ حماس کے رہنما قطر کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے تھے، لیکن اسرائیلی فضائی حملوں نے اس خیال کو غلط ثابت کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ ہم آہنگی سے کیا گیا۔ اب حماس کیلئے ترکیہ آخری پناہ گاہ ہے، جہاں اس نے استنبول میں دفاتر قائم کیے ہیں۔ روبن نے خبردار کیا کہ ترکیہ کی نیٹو رکنیت حماس کو تحفظ نہیں دیگی۔ ترکیہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو فوری طور پر ملک بدر کرے یا ان کے ٹھکانوں سے 150 فٹ کے فاصلے پر رہے تاکہ شہریوں کی حفاظت یقینی ہو۔