اسٹاک ڈکلیئرکرنے کیلئے3دن کی مہلت،گندم کی غیرقانونی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کیساتھ سختی سے نمٹاجائے گا،وزیراعلیٰ مریم نواز

10 ستمبر ، 2025

 لاہور ( جنرل رپورٹر ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرصدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں گندم کی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں اہم فیصلے کیے گئے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے حکم دیا کہ پنجاب میں گندم کے ا سٹاک کو ڈکلیئر کرنے کیلئے تین دن کی مہلت دی جارہی ہے،سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے گندم کی غیرقانونی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے خانیوال میں سیلاب سے گندم ضائع ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سیلاب کے دوران گندم کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل نہ کرنے پرڈی جی فوڈڈپارٹمنٹ کو عہدے سے ہٹا دیاگیا۔ سیلاب سے گندم کے ضیاع پرخانیوال کے ڈی ایف سی سمیت تمام عملہ معطل کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تین دن کے بعد گندم غیر قانونی طور پر سٹور کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اجلاس میں گندم کا سٹاک شو کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ حکومت کو عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔گند م کی غیرقانونی ذخیرہ اندوزی کرنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔گندم سٹاک کرنے والے رضاکارانہ طور پر ڈکلیئر کر یں ورنہ کارروائی ہو گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے صورتحال کا فائدہ اٹھانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔بعض عناصر گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔تمام ممکنہ وسائل استعمال کرکے گندم کے غیرقانونی سٹاک کی نشاندہی کی جائے۔وزیراعلیٰ نے صوبہ میں گندم کی سٹاک کی درست طورپر نشاندہی کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے گندم اور آٹے کے نرخ برقرار رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کا حکم بھی دیا۔ انہوں نے پیرا کو صوبہ بھر میں مسلسل چیکنگ اور کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے ہر دکان پر سرکاری نرخنامہ نمایاں طور پرآویزاں کرنے کا حکم دیا اورخلاف ورزی پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم کی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں تاریخی، بے مثال ریسکیو ریلیف اور انخلا آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے تینوں دریاؤں میں سیلاب کی تاریخی اور غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ٹیم سیلاب متاثرین کی خدمت کیلئے سرگرم عمل ہے اور وسائل کا رخ سیلاب متاثرین کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ سیلاب کی روز بدلتی ہوئی صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کا میکنزم بنایا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اور دیگر حکام خود فیلڈ میں ہمہ وقت موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر بارشوں کے پیش نظر سیلاب متاثرین کیلئے 6 ہزار سے زائد ٹینٹ اور ریسکیو آپریشن کے لئے بوٹس بھی روانہ کر دی گئیں ۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر فلڈ ریلیف کیمپ اور ٹینٹ سٹی میں مچھر مار اور جراثیم کش سپرے کیا جارہا ہے۔ ستھرا پنجاب کی ٹیمیں فلڈ ریلیف کیمپوں اور ٹینٹ سٹی میں صفائی پر مامور ہیں۔ رحیم یار خان میں سیلاب کے اندیشے کے پیش نظر 7ہزار آبادی کا انخلا ممکن بنایا گیا۔ کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان نے انخلا آپریشن کی نگرانی کی۔ سیلاب متاثرہ علاقوں سے 24 بوٹس کے ذریعے کامیاب انخلا آپریشن کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم کی ہدایت پر سیلاب زدگان کے لئے رحیم یار خان میں 12 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے۔ فلڈ ریلیف کیمپوں میں متعدی امراض سے بچاؤ کیلئے صفائی اور فیو میگیشن کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔فلڈ ریلیف کیمپ کے قریب کلینک آن ویل بھی سیلاب زدگان کی علاج معالجہ کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ بارشوں کے پیش نظر سیلاب متاثرین کیلئے6000 ٹینٹ بھیج دیئے گئے ہیں۔ جلالپورپیروالا کے سیلاب متاثرین کے لئے 2500 ٹینٹ روانہ کر دیئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر رحیم یار خان کے سیلاب زدگان کے لئے 2500 ٹینٹ بھیجے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر سیلاب متاثرین کے محفوظ انخلا کے لئے 400 لائف جیکٹ اور400 لائف رینگ بھی بھیجے جارہے ہیں۔ 1000 ٹینٹ فوری طور پر راجن پور روانہ کیے گئے جوسیلاب متاثرین کو مہیا کردیئے جائیں گے۔