ٹیرف اصلاحات کے نفاذ کے بعد پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع

10 ستمبر ، 2025

اسلام آباد (مہتاب حیدر) ٹیرف اصلاحات کے نفاذ کے بعد پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع، پائیڈ کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ بلند ٹیکسوں اور لاگت میں اضافے سے گاڑیاں عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئیں۔ تفصیلات کے مطابق ٹیرف اصلاحات کے نفاذ کے بعد پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن سے منسلک ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ ایک تحقیقاتی مطالعے کے مطابق، حالیہ برسوں میں جب ٹیکس کی شرحیں بلند رہیں اور پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوا، تو عام عوام کے لیے گاڑیاں خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مکمل تیار شدہ یونٹس (سی بی یو) پر امپورٹ ٹیکسز میں کمی اور اسی طرح سی کے ڈی کٹس پر امپورٹ ٹیرف میں کمی کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔ اس سے عام عوام کے لیے گاڑیوں کی استطاعت بہتر ہو گی اور ممکنہ طور پر گاڑیوں کی طلب میں اضافہ بھی ہوگا۔ نتیجتاً، طلب میں بہتری سے نہ صرف آٹو انڈسٹری پر مثبت اثر پڑے گا بلکہ ملک میں گاڑیوں کی ملکیت کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر آٹو موبائل انڈسٹری کے لیے مکمل تیار شدہ یونٹس پر ٹیرف پانچ سالوں میں بتدریج 20 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد کر دیے جائیں گے، جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں پر ٹیرف مالی سال 2026 میں نئی گاڑیوں کے نرخوں سے 40 فیصد زائد سرچارج کے ساتھ شروع ہوں گے، جو ہر سال 10 فیصد کی شرح سے کم ہوتے رہیں گے اور 2030 تک نئی گاڑیوں کے برابر ہو جائیں گے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ ’’ففتھ شیڈول‘‘ میں دی گئی چھوٹ کو ختم کیا جائے اور حفاظتی نوعیت کی ریگولیٹری پیچیدگیوں کو بھی ختم کیا جائے۔ تاہم، اس حوالے سے انڈسٹری کے متعلقہ فریقین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقامی آٹو مینوفیکچررز (او ای ایمز) نے خبردار کیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں اچانک اضافہ، جو سالانہ 70 ہزار سے 80 ہزار یونٹس تک پہنچ سکتا ہے، مقامی گاڑیوں کی پیداوار کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور مقامی پرزہ جات کی تیاری، روزگار اور سرمایہ کاری میں حاصل کی گئی پیش رفت کو بھی الٹا سکتا ہے۔ اسی دوران، یہ ٹیرف میں کمی وسیع تر ماحولیاتی اہداف کو بھی فروغ دیتی ہے: حکومت کا منصوبہ ہے کہ کاربن لیوی متعارف کروائی جائے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مراعات دی جائیں، تاکہ 2030 تک نئی گاڑیوں میں 30 فیصد تک ای ویز کا حصہ حاصل کیا جا سکے۔ مجوزہ پیٹرول اور ڈیزل لیوی سے آئندہ پانچ سالوں کے دوران سالانہ 25 سے 30 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، جو کہ ای وی انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔