ریسکیو والے عوام سے پچیس تیس ہزار لے رہے ہیں،متاثرہ شخص

10 ستمبر ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر جیوکے خصوصی پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ ایک شخص نے کہاکہ ریسکیو 1122 والے عوام سے پچیس تیس ہزار لے رہے ہیں جبکہ وہاں موجود ایک ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ خدمت کے لئے ہم کھڑے ہیں کوئی بھی ریسکیو ورکر پیسے نہیں مانگ رہا ،میزبان حامد میر نے بتایا کہ وہ جلال پور پیروالا میں موجود ہیں جہاں حالیہ سیلاب کے باعث دریائے چناب اور دریائے ستلج کا پانی شہر کے بیشتر حصے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ وہاں ایک شخص نے روتے ہوئے کہا کہ میں صبح چھ بجے سے انتظار کر رہا ہوں میری فیملی دوسری طرف پانی میں گھری ہوئی ہے بھوکی پیاسی ہے اور میں بے بسی کے عالم میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک کشتی مل جائے تاکہ میں انہیں وہاں سے نکال سکوں جبکہ ریسکیو 1122 والے عوام سے پچیس تیس ہزار لے رہے ہیںجبکہ وہاں موجود ریسکیو اہلکار نے کہا کہ میرا مکان گر چکا ہے میری فیملی چار دن سے پھنسی ہوئی ہے مجھے وقت نہیں مل پارہا ہے کہ انہیں کہیں بہتر جگہ منتقل کرسکوں ہم یہاں موجود ہیں انہیں لوگوں کی خدمت کے لیے ہم کھڑے ہیں کوئی بھی ریسکیو ورکر پیسے نہیں مانگ رہا ہے یہ بالکل غلط بات ہے ہم پندرہ دن سے لوگوں کو نکال رہے ہیں ہم نے ایسا کہیں نہیں دیکھا جہاں تک پرائیویٹ کشتیوں کے چارجز کی بات ہے اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حامد میر نے بتایا کہ یہاں مسائل بہت زیادہ ہیں وسائل نہایت کم ہیں۔ رانا قاسم کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں انہیں چاہیے اس علاقے کا دورہ کریں کیوں کہ یہ ان کا حلقہ ہے لوگوں نے انہیں ووٹ دئیے ہیں انہیں یہاں آکر دیکھنا چاہیے یہاں کیا حالات ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر انتظامیہ مناسب اقدامات نہیں کرتی تو یہ شہر ڈوب جائے گا یہاں حکومت کی طرف سے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں الخدمت کی دو کشتیاں آچکی ہیں خیمے بستی بنا رہے ہیں۔ حامد میر ایک فلڈ ریلیف کیمپ میں گئے جہاں ادویات موجود تھیں البتہ وہاں موجود خواتین کا کہنا تھا کہ ہمیں یہاں پریشانی ہے پانی کی بہت پریشانی ہے اور ہم پرائیویٹ کشتیوں میں پیسے دے کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ شہر چھوڑ کر چلے جائیں دو لاکھ کی آبادی ہے شہر کی لوگ کہاں چلے جائیں دریائے ستلج کا ایک قدیم راستہ ہے جسے انتظامیہ نے بند کیا ہوا ہے اگر اس کو کھول دیا جائے تو بہتر ہوگا کیوں کہ اس سے پہلے جو سیلاب آئے ہیں وہ راستہ کھلا رہا ہے۔