گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب

15 ستمبر ، 2025

سکھر/لاہور/ملتان/جلال پور پیر والا/علی پور( بیورو رپورٹ/نیوزرپورٹر/سٹاف رپورٹر،نامہ نگاران) پنجاب کے بعد سیلاب سندھ میں مختلف مقامات پر تباہی مچارہا ہے، گڈو بیراج پر اونچے، سکھر بیراج پر درمیانے جبکہ کوٹری پر نچلے درجے کا سیلاب ہے ‘ صادق آباد میں نبی شاہ کے مقام پر زمیندارہ بند ٹوٹ گیا‘موٹروے ایم فائیو کو جلال پور پیر والا کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیاجبکہ پنجاب میں مون سون کے 11 ویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے تینوں بیراجوں پر سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ گڈو بیراج پر سوا چھ لاکھ کیوسک کے ساتھ اونچے، سکھر بیراج پر پانچ لاکھ کیوسک کے ساتھ درمیانے جبکہ کوٹری بیراج پر ڈھائی لاکھ کیوسک کے ساتھ نچلے درجے کے سیلابی ریلے گزر رہے ہیں، اگلے 12گھنٹے میں سکھر بیراج پر بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہوگی۔ حالیہ سیلابی ریلا اپنے نقطہ عروج پر ہے۔ البتہ پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں کمی کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ ساڑھے 6سے 7لاکھ کیوسک تک پانی آئے گا۔ گڈو و سکھر بیراج پر اگلے چند دن تک اونچے درجے کا سیلاب برقرار رہے گا۔ گڈو تا سکھر کچے کا وسیع علاقہ زیر آب آگیا ہے‘درجنوں دیہاتوں کے زمینی راستے منقطع ہوگئے ہیں۔ اتوار کی شام 6بجے کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجند پر پانی کا بہاؤ کم ہورہا ہے، آمد و اخراج 395761 کیوسک ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 633508، اخراج 603988 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 506560، اخراج 455510 کیوسک، کوٹری بیراج پر آمد 278786، اخراج 267631کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ادھرپنجاب میں سیلابی صورتحال برقرار ہے جس کی وجہ سے شجاع آباد ، رحیم یار خان، احمد پور شرقیہ ، راجن پور اور وہاڑی کے مزید سیکڑوں دیہات پانی میں ڈوب گئے۔فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق دریائے چناب میں پنجند بیراج کے مقام پر بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں گڈو بیراج میں بہت اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی ہے۔جلال پور کھاکھی کے علاقے میں غلام نازک نامی نوجوان اپنے مویشیوں کو سیلاب میں ڈوبنے سے بچانے کی کوشش میں خود ڈوب کر ہلاک ہو گیا، علی پور کے علاقے عظمت پور میں سیلابی پانی میں ڈوبنے والی تیرہ سالہ علیشبہ اور عمران کی لاشیں موضع ماڑیاں میں سیلابی پانی سے ملیں، جن کو لواحقین کے حوالہ کر دیا گیا۔دوسری جانب دریائے چناب پر ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ بند سے سیلابی ریلہ بحفاظت گزر گیا، جس کے بعد پانی کی سطح میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق خطرہ ٹل گیا ہے تاہم متاثرہ نشیبی علاقوں میں پانی تاحال موجود ہے جسے نکالنے کے لیے محکمہ انہار اور ریسکیو ٹیمیں سرگرم عمل ہیں،علی پور شہر سیت پور خانگڑھ دوئمہ اور سرکی کوملانے والی مین روڈ سیلابی ریلے سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، پاک فوج نے ہنگامی بنیادوں پر روڈ بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ،جن مقامات پر سیلابی پانی سے گڑھے پڑ گئے ہیں ان پر اسٹیل پلوں کی تعمیر شروع کردی ہے،واضح رہے کہ پنجاب میں سیلاب سے اموات سو سے تجاوز کر چکی ہیں، 5 ہزار کے قریب دیہات اور 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ پر اجناس کی کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔میلسی میں پناہ گزین خیموں میں موجود ہیں، پینے کے پانی اور خوراک کے مسائل درپیش ہیں، انسانی ہمدردی کی بنا پر شہری سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک اور پانی کی تقسیم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اوچ شریف اور احمد پور شرقیہ کے 36 موضع جات کے اڑھائی لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، چک کہل ، بڈانی ، عزیز آباد، بختیاری ،شکرانی ، جاگیر صادق آباد ، رسول پور ، سرور آباد ، چناب رسول پور شدید متاثر ہوئے۔اوچ شریف میں مکانات اور دیواریں منہدم ہو گئیں، ہزاروں ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں ڈوب گئیں ، 20 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ تاحال منقطع ہیں، سیلاب میں پھنسے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ہیڈ محمد والا اورشیر شاہ کی درجنوں بستیاں ابھی تک گہرے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، شجاع آباد اورجلالپور پیروالا میں لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔چاچڑاں میں سیکڑوں مکانات دریا برد ہوگئے، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ اور رابطہ سڑکیں ڈوب گئیں۔بستی دھوندو کے بند میں شگاف بڑھ کر دو سوچالیس فٹ ہوگيا۔شیر شاہ میں کے متعدد علاقے بھی زیر آب آگئے‘روجھان ، بنگلہ اچھا ، سونمیانی اورکوٹ مٹھن میں کچے کےعلاقے متاثر ہوئے ہیں۔دوسری جانب وہاڑی میں بھی 100 سے زائد دیہی علاقے سیلاب میں گھر گئے، 76 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر فصلیں زیر آب آگئیں۔علاوہ ازیں رحیم یار خان میں دریائے سندھ پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔