اسرائیل سے نمٹنے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دی جائے،اسحاق ڈار، اسلامی ممالک کا اجلاس آج دوحا میں ہوگا

15 ستمبر ، 2025

کراچی ، اسلام آباد( ، نیوز رپورٹر نیوز ڈیسک)نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیلی عزائم پر نظر رکھنے اور اس حوالے سے اقدامات کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دینے کی تجویز پیش کردی ہے،قطر پر اسرائیلی حملے اور خطے میں جاری جارحیت کیخلاف عرب و اسلامی سربراہی اجلاس آج دوحہ میں ہوگا، وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر رہنما شرکت کیلئے آج دوحا پہنچیں گے،قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے عرب اسلامی وزراء خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے کا سخت اور مؤثر جواب دیا جانا چاہیے، اب وقت آگیا ہےکہ عالمی برادری دوہرا معیار چھوڑ دے، نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے دوحہ میں عرب اسلامی وزراء خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹاسک فورس تشکیل دینے کی تجویز پیش کردی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دراندازیوں کیخلاف عرب و اسلامی دنیا کو متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے، اس موقع پر اسحاق ڈارنے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی،مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر عبدالعاطی ،بنگلہ دیش کےمشیر امورِ خارجہ محمد توحید حسین،ملائیشیا کے وزیرِ خارجہ داتو سری محمد حسن ،ازبک وزیرِخارجہ بختیار سیدوف اورسیکرٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طہ ودیگر رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں میں خطے کی سیکورٹی صورتحال،قطر پراسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی، اسرائیلی جارحیت، فلسطینی عوام کے حقوق اور مسلم دنیا کے باہمی اتحاد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، فلسطینی عوام کی آزادی اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعادہ بھی کیاگیا۔تفصیلات کے مطابق قطری وزیراعظم شخ محمد بن عبدالرحمان نے عرب اسلامی وزراء خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوراسرائیل کو اس کے تمام جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے۔قطری وزیراعظم کا کہنا تھاکہ اسرائیل فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگا، اسرائیلی حکومت مسلسل ایک کے بعد ایک جنگ بندی تجویز مسترد کر رہی ہے۔ اجلاس سے خطاب میں وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن چکاہے۔پاکستان اسرائیل کی طرف سے برادر ملک قطرپر غیر قانونی اور بلاجواز حملے کی مذمت کرتا ہے، او آئی سی کی اپیل کے مطابق اسرائیل کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کی کوشش کی جائے، اسرائیل کے خلاف مزید تعزیری اقدامات پر غور کیا جائے، سلامتی کونسل اسرائیل سے فوری، غیرمشروط اورمستقل جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کرے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں تمام متاثرہ شہریوں تک بلاروک ٹوک اور محفوظ انسانی امدادکی رسائی یقینی بنائی جائے۔دریں اثناء عرب اسلامی ممالک کے سربراہی اجلاس میں57 رکنی او آئی سی اور 22 رکنی عرب لیگ کے رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے، جن میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم شامل ہیں۔