اسرائیلی فوج غزہ سٹی میں داخل بڑا زمینی و فضائی حملہ، شہر خالی کرانا شروع کردیا، 90 فلسطینی شہید نسل کشی روکی جائے، اقوام متحدہ

17 ستمبر ، 2025

غزہ سٹی، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے سب سے گنجان آباد شہر غزہ سٹی میں داخل ہوگئیں، غزہ سٹی پراسرائیلی فوج کا بڑازمینی وفضائی حملہ،صہیونی فوج کی غزہ کے باسیوں کو فوری نکلنے کی دھمکی ،شہر خالی کروانا شروع کردیا،40فیصد شہریوں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا،رات بھر تباہی، بمباری اور گولہ باری میں مزید 90فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے،اسرائیلی طیاروں کی زعقوت فیملی کے مکان پر بمباری سے ایک ہی خاندان کے 23افراد شہید ہوگئے،متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے شہید بچوں کے ٹکڑوں کو ملبے سے نکالا،خواتین ،بزرگ افراد اور بچوں سمیت متعدد افراد ملبے تلے دب گئے تھے،اسرائیلی فوج کے مسلط کردہ جبری قحط سے بھی مزید تین فلسطینی دم توڑ گئے ہیں،اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس وقت 10ہزار سے زائد بچوں کو شدید قحط کا سامنا ہے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو انسانی ڈھال بنایا تو مصبیت پڑجائیگی ،یورپی یونین نے کہا ہے کہ اسرائیل کا غزہ سٹی پر حملہ مزید موت اور تباہی لائے گا، برطانیہ اور جرمنی نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا ہے،اسرائیل نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ جنگ کے معاملے پر تل ابیب کے خلاف مجوزہ پابندیاں لگانے سے گریز کرے،امریکی وزیر خاجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ حماس کے پاس معاہدہ قبول کرنے کے لیے انتہائی محدود وقت، شاید چند دن باقی ہیں،اقوام متحدہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے ،برطانیہ اور انسانی حقوق تنظیموں کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد فوری بند کرنے کا مطالبہ کردیا ہے،اسرائیلی طیاروں کی یمن کی بندرگاہ حدیدہ پر بھی بمباری ، حوثیوں کے عسکری ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا دفاعی فضائی نظام اسرائیلی طیاروں کا مقابلہ کررہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے باسیوں کو فوری طور پر علاقے سے نکلنے کا حکم دیتے ہوئے شہر کو "خطرناک جنگی زون" قرار دیا ہے۔ فوجی ترجمان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حماس کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے اور شہریوں کو الرشید اسٹریٹ کے ذریعے جنوب کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ تاہم جنوبی غزہ کے نام نہاد "محفوظ علاقے" بھی شدید بمباری اور ہجوم کے باعث موت کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔غزہ شہر اور دیگر علاقوں پر اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں صرف دارج محلے میں 20 افراد شامل ہیں، جبکہ کئی شہری بھوک اور محاصرے کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 65 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں اسرائیل کو فلسطینی عوام کے خلاف "نسل کشی" کا مرتکب قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل 1948 کے کنونشن کے تحت نسل کشی کی پانچ میں سے چار اقسام کا ارتکاب کر رہا ہے، جس میں شہری آبادی پر بمباری، جبری بے دخلی، بھوک سے مارنے کی پالیسی، تولیدی تشدد اور ثقافتی ورثے کی تباہی شامل ہیں۔اسرائیل نے رپورٹ کو "جھوٹ پر مبنی" قرار دیا ہے، مگر عالمی سطح پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد بند کرے اور نسل کشی کے جرم پر کارروائی کرے۔ ادھراسرائیل نے منگل کے روز یمن میں حوثیوں کے زیر انتظام حدیدہ بندرگاہ پر فضائی حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ اس نے وہاں موجود "فوجی ڈھانچے" کو نشانہ بنایا ہے۔حوثیوں کے المنسیرہ ٹی وی کے مطابق "اسرائیلی دشمن کے 12 فضائی حملوں نے حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ بنایا"۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ کے فضائی دفاعی نظام اسرائیلی طیاروں کے حملے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ادھریورپی یونین نے منگل کے روز خبردار کیا کہ اسرائیل کا غزہ سٹی پر زمینی حملہ مزید موت اور تباہی کا باعث بنے گا اور علاقے میں پہلے سے موجود "المناک انسانی بحران" کو مزید بگاڑ دے گا۔یورپی یونین کے ترجمان انوار الانونی نے کہا: "یورپی یونین نے بارہا اسرائیل کو کہا ہے کہ وہ غزہ سٹی میں اپنی کارروائیاں نہ بڑھائے۔ فوجی مداخلت مزید تباہی، مزید ہلاکتیں اور مزید بے گھر افراد پیدا کرے گی، اور ہم نے واضح کیا ہے کہ اس سے پہلے ہی سنگین انسانی بحران مزید خراب ہوگا اور یرغمالیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ جائیں گی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو خبردار کیا کہ حماس کے پاس جنگ بندی معاہدہ قبول کرنے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں۔روبیو نے صحافیوں کو بتایا: "اسرائیلی کارروائیاں شروع کر چکے ہیں، اس لیے ہمارے پاس کسی معاہدے کے ہونے کا بہت چھوٹا موقع ہے۔ اب ہمارے پاس مہینے نہیں ہیں، شاید صرف دن یا چند ہفتے باقی ہیں۔"انہوں نے کہا: "ہماری پہلی ترجیح یہ ہے کہ یہ تنازع مذاکراتی تصفیے کے ذریعے ختم ہو، جہاں حماس اعلان کرے کہ وہ عسکریت ترک کر دے گی اور اب مزید خطرہ نہیں رہے گی۔"