لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 9 فیصد شرح نمو، صنعت کے بھرپوراحیاکا اشارہ

17 ستمبر ، 2025

اسلام آباد ( اسرار خان ) پاکستان کےلارج اسکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر نے جولائی 2025 میں سال بہ سال 8.99 فیصد کی شرح نمو دکھائی ہے ۔ اس سےصنعت کی جانب سے بھرپور احیا کا اشارہ مل رہا ہے جو کہ کمزور طلب اور زیادہ لاگت کی وجہ سےخبراب صورتحال کا شکار تھیں۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر جون سے 2.6 فیصد پیداوار بڑھی ہےجو کہ آٹو موبائیلز، پٹرولیم مصنوعات، سیمنٹ اور غذا کے سیکٹر مین ہونے والی مضبوط کارکردگی کی وجہ سے ہے۔ تاہم مشروبات، لکڑی کی مصنوعات، کیمیکل، لوہا اور فولاد کی اشیا اور دھات سازی و مشینری و آلات بنانے کی صنعت میں مسلسل تنزلی برقرار ہے۔ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ ( ایل ایس ایم ) کا شعبہ ملک کی تقریباً 68 فیصد مجموعی مینوفیکچرنگ کا ذم ہ دار ہے اور ملک کے جی ڈی پی میں اس کا حصہ 8 فیصد ہے ۔ اسے گرتی ہوئی داخلی طلب اور بڑھتی ہوئی قرض کی لاگت اور غیر متسلسل توانائی پالسییوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے چیلنز کا سامنا ہے۔ پاکستان بیورو آ ف شماریا ت کےمطابق صنعتی بحالی کا راستہ اب بھی خاصا ناہموار ہے۔ سب سے زیادہ نشانہ بننے والے شعبے مشینری اور آلات کے شعبے تھے جو سالانہ بنیادوں پر 22.77 فیصد منفی نمو کا شکار ہوئے تھےان کے بعد مشروبات کا سیکٹر تھا جس کی گروتھ 6.2 فیصد ہوئی، لوہے اور فولاد میں 3.7 فیصد منفی ترقی ہوئی، دھات سازی میں منفی 3.55 فیصد، کیمیائی اشیا میں منفی 2.6 فیصد ، کھاد مین منفی 1.6 فیصد اور لکڑی کی مصنوعات مین منفی 2.2 فیصد کی شرح نمو ایک سال کے عرصے کے دوران سکڑی۔دوسری جانب آٹو موبائیل پروڈکشن 57.8 فیصد سال بہ سال بڑھی، فرنیچر 86.8 فیصد بڑھا، ٹرا نسپورٹ کا دیگر سامانا 45.8 فیصد فٹبال 33.7 فیصد سیمنٹ کی پیداوار 18.75 فیصد بڑھی۔ غذائی پیداوار 6.6 فیصد بڑھی، تیار شدہ ملبوسات کی پیداوار 24.8 فیصد، کاغذ اور بورڈ 15 فیصد، کوک اور پٹرولیم مصنوعات 13.2 فیصد ، ربر کی مصنوعات 17.3 فیصد، غیر دھاتی معدنی پیداوار 16.5 فیصد بڑھی۔لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کا سب سے بڑا جز ٹیکسٹا ئل ہے لیکن اس کی پیداوار تقریباً ایک سی رہی۔