انصار عباسی
اسلام آباد :…حکومت نے آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ میں مبینہ 375؍ ٹریلین روپے (تین لاکھ 75؍ ہزار ارب روپے) کی بے ضابطگیوں کے انکشاف کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے جس کا مقصد حکومت کو بدنام کرنا اور پورے نظام کو مشکوک بنانا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ معاملہ محض ’’ٹائپنگ کی غلطی‘‘ نہیں بلکہ ایک ’’جان بوجھ کر کیا گیا اقدام‘‘ ہے جس کے پیچھے اصل نیت حکومت کو ہدف بنانا تھا۔ اگرچہ آڈیٹر جنرل آفس نے کئی ہفتوں تک رپورٹ کا دفاع کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے تسلیم کیا کہ اس میں ’‘ٹائپنگ کی غلطیاں‘‘ (ٹائپوز) موجود تھیں، لیکن سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مبالغہ آرائی حادثاتی نہیں تھی۔ ان کا الزام ہے کہ یہ سب ایک اعلیٰ افسر کی منصوبہ بندی تھی جو ایک مخصوص سیاسی جماعت سے ہمدردی رکھتا ہے اور اس نے حکومت کو اسکینڈل کا شکار کرنے کیلئے یہ راستہ اختیار کیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس افسر کو اپنا موجودہ عہدہ ایک طاقتور سابق انٹیلی جنس سربراہ کی آشیرباد سے ملا تھا۔ حکومت کو جمع کرائی گئی اور ’’دی نیوز‘‘ کے ساتھ شیئر کردہ ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، مذکورہ افسر نے سروس کے دوران سیاسی وابستگی رکھی اور مبینہ طور پر پارٹی سے جڑے افسروں کو آڈٹ کے اہم عہدوں پر تعینات کیا۔ ایک موقع پر اس افسر پر الزام لگا کہ اس نے حساس آڈٹ کا دائرہ کار مقررہ مدت سے آگے بڑھا دیا تاکہ اپوزیشن رہنماؤں کیلئے سیاسی گنجائش پیدا کی جا سکے، جبکہ بیک وقت حکومت اور عسکری قیادت کے حصوں کو ہدف بنایا گیا۔ گزشتہ برسوں کے دوران، ہم خیال افسران کو خاص طور پر صوبائی حکومتوں، وفاقی محکموں اور ہائی پروفائل منصوبوں کے آڈٹ پر مامور کیا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ تقرریاں اس نیت سے کی گئیں کہ ایسی آڈٹ پیراز اور رپورٹس تیار ہوں جو حکومت کیخلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کی جا سکیں۔ مالی حکام نے آڈیٹر جنرل آفس کے بعض اندرونی فیصلوں پر بھی اعتراض کیا، مثلاً اپنے افسروں کیلئے خصوصی الاؤنسز کی منظوری، جو فنانس ڈویژن کی ہدایات کے برعکس تھا۔ بعد میں وزارتِ خزانہ نے یہ فیصلہ واپس لے کر اضافی رقم کی وصولی کا حکم دیا۔ مزید یہ کہ، حالیہ انٹیلی جنس جائزوں میں یہ خدشات ظاہر کیے گئے کہ اس افسر نے سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے حساس آڈٹ ریکارڈ جمع کر رکھے ہیں، جن سے سیاسی لحاظ سے کسی بھی موزوں وقت پر لیک کر کے اپوزیشن بیانیے کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ’’ٹائپنگ کی غلطی‘‘ (ٹائپوز) عام بات ہیں، لیکن ’’375؍ ٹریلین روپے کا اسکینڈل‘‘ صرف غفلت نہیں بلکہ بدنام کرنے کی ایک منظم کوشش تھی۔ ان کے مطابق، ریاستی اداروں کے اندر سے ایسی چالیں براہ راست استحکام اور حکمرانی کیلئے خطرہ ہیں۔
مزید خبریں
-
کراچی روشنیوں کا شہر ایک مرتبہ پھر میوزیکل کنسرٹس کا مرکز بن گیا۔استاد راحت فتح علی خان کے کنسرٹ کی کامیابی...
-
اسلام آ باد پاکستانیوں نے ایک سال میں کتنے موبائل فون درآمد کئے ؟،اعدادو شمار سامنے آگئے، پاکستان نےمالی...
-
لاہور سول سروسز اکیڈمی میں تربیت کا نیا ماڈل، افسران کیلئے تحقیقی ادارہ جاتی اٹیچمنٹ پروگرام شروع۔ شواہد پر...
-
راولپنڈی پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی نےافواجِ پاکستان کیخلاف بیان پر مولانا فضل الرحمٰن سے معافی کا...
-
کراچی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےیومِ الحاقِ پاکستان پراپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ کشمیری عوام کے...
-
اسلام آباد پی ٹی آئی کو بچانے اور قبضہ گروپ سے آزادی کیلئےپی ٹی آئی کے بانی و نظریاتی کارکنوں نےتجدید...
-
ریاض سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے کہا ہے کہ رواں عمرہ سیزن کے آغاز سے اب تک عمرہ زائرین کی تعداد میں 22.5فیصد اضافہ...
-
اسلام آباد پاکستان میں فائیو جی نیٹ ورک کی تیاریوں نے غیر معمولی رفتار اختیار کر لی ہے۔ پاکستان ٹیلی...