ن لیگ اور پی پی کے درمیان کشیدگی میں ایک درجے اضافہ

06 اکتوبر ، 2025

اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) ن لیگ اور پی پی کے درمیان کشیدگی میں ایک درجے اضافہ ہوگیا۔ پنجاب وسندھ حکومت کی آویزش ، وفاق کو بھی لپیٹ میں ، مناقشہ آئندہ دنوں میں تھم جانے کا امکان نہیں ہے۔ پی پی کا حکومت سے دونوں پارلیمانی ایوانوں میں عدم تعاون کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رکھنے کا فیصلہ ، پی پی کے واک آئوٹ کے بعد پی ٹی آئی کورم نہ ہونےکے بہانے اجلاس سبوتاژ کرنے کی کوشش کریگی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان کشیدگی میں اتوار کو ایک درجے کا اضافہ ہوگیا ہے جس نے پہلے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے درمیان آویزش تھی اب اس نے وفاقی حکومت کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس امر کا امکان موجود نہیں کہ یہ مناقشہ آئندہ دو ایک روز میں تھم جائے گا۔ بیانات میں اس وقت تیزی آئی جب سندھ حکومت کے سینئر وزیرنے اتوار کو تعطیل کے باوجود خصوصی طور پرنیوز کانفرنس کی اور پنجاب کی وزیر اعلی مریم نو از پر الزام عائد کردیا کہ وہ وفاق میں اپنے چچا شہباز شریف حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں ۔ پنجاب سے اس کا فوری جواب آیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ پیپلزپارٹی پنجاب اور وفاق دونوں حکومتوں کے خلاف سازش میں مصروف ہے۔ اتوار کی شام اعلی پارلیمانی ذرائع نے جنگ /دی نیوز کو بتایا ہے کہ پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وفاقی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کا سلسلہ شروع کیا ہے وہ برقرار رہےگا۔ آج (پیر) پیپلز پارٹی دونوں ایوانوں سے واک آئوٹ کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رکھے گی تحریک انصاف کہلانے والی سنی اتحاد کونسل کے ارکان ایسے موقع کو اپنے لئے نعمت غیر مترقبہ جان کر فوری کورم کی نشاندہی کردیں گے اور اجلاس کا جاری رہنا مشکل بنایا جاسکتا ہے۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نون کے اسپیکر سردار ایاز صادق آج (پیر) ملک کے قائم مقام صدر ہیں وہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے نظامت پیپلزپارٹی کے ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کے ہاتھوں میں ہوگی جو حکومت کے لئے راحت رسانی کا وسیلہ نہیں بنیں گے۔ دوسری جانب سینیٹ کے چیئرمین سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی بھی ملک سے باہر ہیں ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے ان کی عدم موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ سید آل خان اجلاس کی نظامت کرینگے جو مسلم لیگ نون سے وابستہ ہیںاس تمام کے باوجود کورم کے لئے مطلوبہ تعداد میں ارکان ایوان میں حاضر نہ ہوں تو اجلاس جاری نہیں رہ سکے گا۔