اسلام آباد (خبر نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اپنی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے نام ایک اور خط لکھ دیا۔ خط میں کہا کہ ان کا نقطہ نظر مصنوعی ذہانت کا عدلیہ میں بطور فیصلہ کنندگان استعمال کرنے کے ناقدین کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکا ہے، کمپیوٹر یا روبوٹ کبھی بھی موافق حق یا آزادانہ رائے رکھنے کے قابل نہیں ہوں گے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے خط کی کاپی تمام ججز کو بھی ارسال کی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے عدلیہ میں استعمال کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام ایبل ہے۔ جو روبوٹ اس لئے کرسی انصاف پر منصب کئے جائیں گے وہ پروگرامر کے مرہون منت ہوں گے، ان روبوٹ کے فیصلے ہمیشہ ان پروگرامز کے تابع ہوں گے جو ان میں وقتا فوقتاً فیڈ کئے جائیں گے۔
کراچی روشنیوں کا شہر ایک مرتبہ پھر میوزیکل کنسرٹس کا مرکز بن گیا۔استاد راحت فتح علی خان کے کنسرٹ کی کامیابی...
اسلام آ باد پاکستانیوں نے ایک سال میں کتنے موبائل فون درآمد کئے ؟،اعدادو شمار سامنے آگئے، پاکستان نےمالی...
لاہور سول سروسز اکیڈمی میں تربیت کا نیا ماڈل، افسران کیلئے تحقیقی ادارہ جاتی اٹیچمنٹ پروگرام شروع۔ شواہد پر...
راولپنڈی پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی نےافواجِ پاکستان کیخلاف بیان پر مولانا فضل الرحمٰن سے معافی کا...
کراچی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےیومِ الحاقِ پاکستان پراپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ کشمیری عوام کے...
اسلام آباد پی ٹی آئی کو بچانے اور قبضہ گروپ سے آزادی کیلئےپی ٹی آئی کے بانی و نظریاتی کارکنوں نےتجدید...
ریاض سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے کہا ہے کہ رواں عمرہ سیزن کے آغاز سے اب تک عمرہ زائرین کی تعداد میں 22.5فیصد اضافہ...
اسلام آباد پاکستان میں فائیو جی نیٹ ورک کی تیاریوں نے غیر معمولی رفتار اختیار کر لی ہے۔ پاکستان ٹیلی...