لندن میں گزشتہ سال اربوں روپے مالیت کے 80 ہزار فون چوری

16 اکتوبر ، 2025

کراچی (رفیق مانگٹ)لندن میں موبائل فون چوری کی صنعت بے نقاب ، پولیس نے دو ہزار فون اور ساڑھے سات کروڑ روپے( دو لاکھ پاؤنڈز) برآمد کر لیے، گزشتہ سال شہر میں 80 ہزار سے زائد موبائل فون چوری ہوئے، چوری شدہ فونز ہانگ کانگ، چین اور الجزائر بھیجے جا رہے ہیں، ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب گودام سے ایک ہزار آئی فونز برآمد، پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ لندن فون چوری کا یورپی دارالحکومت بن گیا، ایک لاکھ سے زائد وارداتوں میں صرف 495 پر کارروائی، چوری شدہ فونز کی قیمت غیر ملکی منڈیوں میں 5 ہزار ڈالر تک ہے ۔ لندن پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال شہر میں 80 ہزار سے زائد موبائل فون چوری ہوئے، جن میں سے زیادہ تر غیر ممالک بھیجے جا رہے تھے۔ میٹروپولیٹن پولیس کی تحقیقات کے مطابق، یہ جرائم اب محض گلی محلوں کی واردات نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔پولیس نے گزشتہ ماہ شمالی لندن میں چھاپوں کی ایک سیریز کے دوران تقریباً 2ہزار چوری شدہ فونز اور7 کروڑ 49لاکھ روپے (2لاکھ پاؤنڈز )نقدی برآمد کیے۔ یہ کارروائیاں ان دکانداروں اور درمیانی سطح کے خریداروں کے خلاف کی گئیں جو چوری شدہ فونز کو ہانگ کانگ، چین اور الجزائر جیسی منڈیوں میں بھیجنے والے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔پولیس کو یہ نیٹ ورک اس وقت بے نقاب ہوا جب گزشتہ دسمبر میں ایک خاتون نے اپنے آئی فون کی لوکیشن ایپ کے ذریعے ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک گودام تک پہنچنے کا سراغ دیا۔اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں 64 ہزار فون چوری ہوئے تھے جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 80 ہزار تک پہنچ گئی۔ مارچ 2024 سے فروری 2025 کے دوران 106,000 فون چوری کے کیسز رپورٹ ہوئے، لیکن صرف 495 افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ۔ یعنی ہر 200 کیسز میں صرف ایک میں کارروائی ہوئی۔پولیس حکام کے مطابق، یہ جرم انتہائی منافع بخش اور کم خطرہ ہے۔ ایک چور ایک فون سے اوسطاً 300 پاؤنڈز کماتا ہے، جو کم از کم اجرت سے تین گنا زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابقپولیس کے لیے سب سے بڑا چیلنج پہچان اور گرفتاری ہے۔ ای-بائیکس پر سوار نقاب پوش چور تیزی سے حملہ کر کے فرار ہو جاتے ہیں، اور مصروف سڑکوں پر ان کا پیچھا کرنا پیدل چلنے والوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔پچھلے مہینے کی کارروائیوں میں 40ہزار پاؤنڈز نقدی اور پانچ چوری شدہ فون موقع پر برآمد ہوئے۔ دسمبر سے اب تک 4ہزار آئی فونز پولیس کے قبضے میں آچکے ہیں، جو جنوب مغربی لندن کے پٹنی اسٹور روم میں رکھے گئے ہیں۔کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر لارنس شرمین کے الفاظ میں جب ایک فون کی قیمت ہزار پاؤنڈ ہو، تو سڑک پر اسے ہاتھ میں پکڑ کر چلنا ایسے ہی ہے جیسے جیب سے ہزار پاؤنڈ نکال کر ہوا میں لہرانا۔