مسلم دنیا کی 500بااثر شخصیات، مفتی تقی عثمانی چھٹے نمبر پر

07 نومبر ، 2025

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر)اردن میں قائم رائل اسلامک اسٹریٹیجک اسٹڈیز سینٹر کی جاری کردہ مسلم دنیا کے 500 بااثر ترین افراد کی فہرست میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کئی نمایاں شخصیات شامل ہیں ۔اس فہرست میں مفتی تقی عثمانی چھٹے نمبر پر ہیں، سعودی فرمانروا، ایرانی رہبر، امیر قطر، ترکیہ و اردن کے سربراہان حکومت پہلے 5 نمبروں پر فائز،پاکستان کے کئی سیاستداں، مذہبی رہنما واسکالرز، ڈاکٹرز ، صحافی اور سائنسداں بھی فہرست میں شامل۔وزیر اعظم شہباز شریف۔ چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جسٹس تقی عثمانی ،مولانا نذر الرحمٰن ، عمران خان، حافظ نعیم الر حمن،ساجد علی نقوی ۔مولانا طارق جمیل اور ڈاکٹر طاہر القادری ،جنگ میڈیا گروپ اور جیو ٹی وی نیٹ ورک کےایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن پاکستانی میڈیا کی طاقتور ترین شخصیت قرار ،جیو ٹی وی نیٹ ورک کے مقبول پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان، معروف صحافی حامد میر ،ڈاکٹر عمر سیف، فلمساز شمین عبید چنوئے،ملالہ یوسفزئی، عابدہ پروین ، احمد اکبر۔ منیبہ مزاری، اویس رضا قادری ،پروفیسر عطا الرحمن اورڈاکٹر ادیب الحسن رضوی بھی شامل ہیں ۔ اس فہرست کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلی 50 شخصیات کی رینکنگ کی گئی ہے یعنی انہیں ایک سے لے کر 50 تک نمبر دیے گئے ہیں، لیکن بعد کی 450 شخصیات کی رینکنگ نہیں کی گئی۔ان 50 بااثر ترین شخصیات میں پاکستان کی دو شخصیات شامل ہیں، چھٹے نمبر پر جسٹس تقی عثمانی اور 42ویں نمبر پر تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا نذر الرحمٰن ہیں۔مسلم بااثر شخصیات میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میاں محمد شہباز شریف مارچ2024میں پا کستان کے24ویں وزیر اعظم بنے ۔قبل ازیں انہوں نے 2022سے2023تک ملک کے 23ویں وزیر اعظم کے طور پر فرائض انجام دیے۔ان کے دور میں گورننس اور معاشی استحکام پر فوکس کیا گیا۔انہوں نے سول۔ملٹری تعلقات کو عمدگی سے نبھایا۔اپنے سیا سی کیر یئر میں انہیں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی مسلم با اثر شخصیات میں شامل ہیں۔ان کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ان کی بطورآرمی چیف تقرری نومبر2022میں کی گئی ۔ایک مذہبی اور علمی خاندان سے تعلق رکھنے والے عاصم منیر پاکستان کی تاریخ میں پہلے آرمی چیف ہیں جو حافظِ قرآن بھی ہیں۔ مئی 2025میں پاک بھارت معرکہ کے بعد انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی ۔ایوب خان کے بعد یہ رینک حاصل کرنے والے وہ دوسرے آرمی افسر ہیں۔ وہ ایسے وقت میں فوج کے سر براہ ہیں جب ملک کو سیا سی و معاشی مسائل کا سامنا ہے ۔رپورٹ کے مطابق پا کستان کے مستقبل میں سول ملٹری تعلقات کی نئی تشریح کا چیلنج در پیش ہے۔سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام بھی فہرست میں شامل ہے ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم کو اس سال پہلی مرتبہ فہرست میں جگہ ملی۔ رپورٹ میں انہیں ’’emerging political leader with grassroots vision‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ فہرست میں آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا نام پاکستان میں شیعہ قیادت کی نمایاں اور معتدل آواز کے طور پر شامل کیاگیاہے۔ وہ ’’شیعہ علما کونسل کے سرپرستِ اعلیٰ اور ’’اسلامی تحریک پاکستان‘‘ کے بانی رہنما ہیں۔پاکستان سے میڈیاکے شعبہ سےجیو ٹی وی نیٹ ورک اور جنگ میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور ایڈیٹر انچیف میر شکیل الر حمن کوپاکستانی میڈیا کی طاقتور ترین شخصیت( Media mogul) قرار دیتے ہوئےمسلم دنیا کی بااثر شخصیات میں شامل کیا گیا ہےاور ان کی عالمی شخصیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔جنگ اور جیو ٹی وی نیٹ ورک کو پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا ہائوس قرار دیاگیا ہے جو انڈی پنڈنٹ میڈیا کا ر پوریشن کے زیر انتظام اپریٹ ہوتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020میں میر شکیل الرحمن کو ایک اینٹی کرپشن ایجنسی نے عشروں پرانی اراضی کی ٹرانزکشن میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر گرفتار کرلیا۔وہ تقریبا 8ماہ قید میں رہے ۔انہیں نومبر2020میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے پر رہائی ملی۔ بعد ازاں جنوری 2022میں احتساب کورٹ نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیا۔اس کیس پر پریس کی اآزادی کے حامیوں نے وسیع پیمانے پر تنقید کی اور اسے اآزاد میڈیا پر سیا سی ایما پر کیاگیا حملہ قرار دیا۔رپورٹ میں میر شکیل الرحمن کو مسلم دنیا میں آزاد صحافت کیلئے مشعل بردار قرار دیاگیا ہے۔جیو ٹی وی نیٹ ورک کے کرنٹ افیئرز کے مقبول پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان اور معروف صافی اور کالم نویس حامد میر بھی مسلم با اثر شخصیات میں شامل ہیں ۔رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ وہ بے خوف رپورٹنگ کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بے باک لب ولہجہ رکھتے ہیں اور انسانی حقوق اور اآزادی صحافت کے علمبردار ہیں۔ وہ دو مرتبہ قاتلانہ حملوں میں محفوظ رہے ۔ کئی مرتبہ انہیں ٹی وی سے بندش کا سامنا کرنا پڑا۔وہ 1987میں رو زنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے ۔ انہوں نے 2002میں جیو نیوز کو جوائن کیا۔ وہ اب بھی مقبول ٹاک شو کیپٹل ٹاک کی میز بانی کرتے ہیں۔ وہ ان چند صحافیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کا انٹر ویو کیا تھا۔خطرات اور چیلنجز کے با جود اب بھی حامد میر قومی اور بین الا قوامی سطح پرجرنلزم کی موثر آواز ہیں۔ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی ایوارڈ سے نوا زا گیا جن میں ہلال امتیاز اور سارک لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ شامل ہیں۔ اے آر وائی کے سلمان اقبال کا نام بھی فہرست میں شامل ہے ۔ مولانا طارق جمیل کا نام اس سال بھی فہرست میں شامل ہے۔ وہ پاکستان اور دنیا بھر میں لاکھوں سامعین رکھنے والے عالمِ دین ہیں۔رپورٹ میں معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر فر حت ہاشمی کا نام بھی شامل کیاگیا ہے۔انہیں بااثر اسلامی ٹیچر۔ پبلک سپیکر اور سکالر قرار دیاگیا ہے۔منہاج القر اآن انٹر نیشنل نیٹ ورک اور منہاج ویلفئر فائونڈیشن کے بانی ڈاکٹر طاہر القادری کا نام بھی با اثر شخصیات میں شامل کیا گیا ہے۔معروف رائٹر پروفیسر احمد اکبر کا نام ی فہرست میں شامل ہے ۔پروفیسر اکبر احمد علم و تحقیق کی عالمی آواز ہیں۔پروفیسر عطا الر حمن کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔انہوں نے کراچی یو نیو رسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور کیمرج یو نیو رسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔وہ پہلے مسلمان سائنس دان ہیں جنہیں یونیسکو سائنس پرائز حاصل کیا۔2013میں ملائشیا کی یونیورسٹی نے اپنے انسٹی ٹیوٹ کو ان کے نام سے منسوب کیا۔ڈاکٹر عمر سیف کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔ وہ پہلے پا کستانی ہیں ایم اآئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے دنیا کے35نوجوان تخلیق کاروں( Innovators) میں شامل کیا۔2011میں گوگل فیکلٹی ریسرچ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پا کستانی ہیں۔وہ پنجاب میں انفار میشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر ہیں۔پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ نعت خواں الحاج صدیق اسماعیل کو رپورٹ میں شامل کیاگیا ہے۔انہیں مخیر شخصیت بھی قرار دیاگیا ہے۔انہوں نے پچاس سال تک حمد اور نعت پڑھی ۔ پاکستانی فلم ساز اور دو بار آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین شرمین عبید چنائے کو ’’creative changemaker‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ ’’پٹاخہ پکچرز‘‘ اور ’’نیلا آسمان‘‘ ریزیڈنسی پروگرام کی بانی ہیں، جو پاکستانی خواتین کو فلم سازی میں مواقع فراہم کرتے ہیں۔گلو کارہ عابدہ پروین کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کی وجہ شہرت صوفیا کا کلام ہے۔انہیں صوفی کلام کی ملکہ قرار دیاگیا ہے۔ نوحہ خوان سید ندیم ثروت رضاکو بھی فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔عاطف اسلم کو’’most followed Muslim singers‘‘ میں شامل کیا گیا ہے۔معروف نعت خوان محمد اویس رضا قادری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ان کے 40لاکھ فالوورز ہیں ۔رپورٹ میں تبلیغی جماعت کے عالمی نظام کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان میں مولانا نذرالرحمن کا بطور امیرِ تبلیغی جماعت ذکر کیا گیا ہے۔ انہیں دینی قیادت میں سادگی، اعتدال اور تنظیمی بصیرت کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔شیخ محمد الیاس قادری دعوتِ اسلامی کے روحِ رواں پاکستان کی دینی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے بانی شیخ محمد الیاس عطار قادری بھی اس سال کی فہرست میں شامل ہیں۔ ایوراڈ یافتہ سائنس دان عرفان صدیقی کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔ ان کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ بعد ازاں امریکا چلے گئے جہاں انہوں نے کولمبیا ۔ ہارورڈ اور یلے یونیو رسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ انہیں 2021میں جوزف ایف کیتھلے ایوارڈ ملا۔منیبہ مزاری کا نام بھی شامل ہے جنہیں پاکستان کی اآئرن لیڈی قرار دیاگیا ہے۔ وہ انسانی حقوق بالخصوص معذور افراد کے حقوق کی علمبردار ہیں۔ پہلی خاتون میز بان ہیں جو وہیل چیئر پر ہیں۔انہیں اقوام متحدہ کیلئے پا کستان کی جانب سے خیر سگالی کا سفیر نا مزد کیا گیا۔فہرست میں ملالہ یوسفزئی بھی شامل ہیں۔انہیں سترہ سال کی عمر میں نوبل پرائز کیلئے نامزد کیاگیا جو اعزاز ہے۔انسان دوست پروفیسر ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی بھی فہرست میں شامل ہیں ۔ رپورٹ کے مطا بق ڈاکٹر رضوی پاکستان کے ایک سرکردہ انسان دوست شخص ہیں جنہوں نے پاکستان میں صحت کی سب سے بڑی مفت تنظیم قائم کی ہے۔وومن آف کا ایئر کا خطاب امریکی عالمہ عائشہ عبدالرحمٰن بیولی کو ملا ہے۔ عائشہ نے متعدد اسلامی متون کے تراجم کر رکھے ہیں۔اسلامی دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں پہلے نمبر پر سعودی شاہ سلمان ہیں، جن کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ دنیا کے تیل کے 20 فیصد ذخائر ان کے پاس ہیں۔دوسرے نمبر پر ایران کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای ہیں۔ چوٹی کی پانچ دوسری شخصیات میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی تیسرے نمبر پر، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان چوتھے نمبر پر، جب کہ اردن کے شاہ عبداللہ ابن الحسین پانچویں نمبر پر ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دسویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔