صنعتکاروں کا حکومتی دعوئوں پر شدید ردِعمل‘ کیپیسٹی ادائیگیاں دوبارہ بڑھ گئیں

07 نومبر ، 2025

اسلام آباد (اسرار خان)صنعتی صارفین نے جمعرات کے روز حکومت کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ آزاد بجلی گھروں (IPPs) کے ساتھ نئے معاہدوں سے ٹیرف میں کمی اور سرکلر ڈیٹ پر قابو پایا جا رہا ہے۔صنعتی صارفین نے حکومتی دعووں پر شدید ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہےکہ کیپیسٹی پیمنٹس دوبارہ بڑھ گئی ہیں، جس سے صارفین پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (Discos) کی جانب سے دائر اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جس میں رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے لیے 8.4 ارب روپے صارفین سے وصول کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔عوامی سماعت کے دوران صنعتی صارفین نے حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "یہ محض نمائشی اصلاحات ہیں، قرضوں کا بحران بدستور بڑھ رہا ہے"۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024–25 میں کیپیسٹی ادائیگیوں میں کمی دیکھی گئی تھی — تیسری سہ ماہی (جنوری–مارچ) میں 47.1 ارب روپے اور چوتھی سہ ماہی (اپریل–جون) میں 53.7 ارب روپے کی کمی ہوئی تھی — کیونکہ حکومت نے بعض آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کیے تھے، لیکن اب ادائیگیاں دوبارہ بڑھ گئی ہیں۔ڈسکوز کی درخواست کے مطابق وہ 21.7 ارب روپے کی کیپیسٹی چارجز وصول کرنا چاہتی ہیں، جسے نظامی نقصانات اور آپریشنل بچتوں سے ہونے والی 13.3 ارب روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ سے جزوی طور پر پورا کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابقلیسکو (LESCO) نے سب سے زیادہ 8.45 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ظاہر کیے۔میپکو (MEPCO) 4.35 ارب روپے، گیپکو (GEPCO) 4.23 ارب روپے، اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) 2.34 ارب روپے کے ساتھ اگلے نمبروں پر رہیں۔حیسکو (HESCO) نے 3.21 ارب روپے کی سب سے بڑی منفی ایڈجسٹمنٹ ظاہر کی۔