جج کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج،تحریر ی حکم جاری

09 نومبر ، 2025

اسلام آباد(جنگ رپورٹر)اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج ،جسٹس ثمن رفعت کے خلاف دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران رجسٹرار آفس کے ناقابل سماعت ہونے کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی ہے،حاضر سروس جج کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی قابل سماعت بھی نہیں ،رجسٹرار آفس کے کے اعتراضات برقرار ، جسٹس خادم حسین سومروپر مشتمل سنگل بنچ نے ہفتہ کے روز مقدمہ کاتحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے قراردیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج کے خلاف کاروائی کا درست فورم صرف اور صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہے،حاضر سروس جج کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی قابل سماعت بھی نہیں ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے مقدمہ میں صرف آبزرویشنز دی ہیں، کوئی حکم جاری نہیں کیا جس پر عملدرآمد ہوتا، تحریری حکمنامہ کے مطابق درخواست گزار کلثوم خالق ایڈوکیٹ نے توہین عدالت کی درخواست میں بہت سے ایسے افراد کو بھی فریق مقدہ بنایاہے جو آئینی عہدوں پر بیٹھے ہیں، جبکہ آئینی عہدہ پر فائز شخص یا شخصیات کو فریق نہیں بنایا جا سکتا جب تک ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو، عدالت نے قراردیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کا کوئی جج اسی عدالت کے کسی دوسرے حاضر سروس جج کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا مجاز ہی نہیں ،جبکہ کسی حاضر سروس جج کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی قابل سماعت بھی نہیں ہے ، تحریری حکمنامہ کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے کی گئی استدعا غلط فہمی پر مبنی، غیر مستند اور آئینی دائرہ اختیار سے باہر ہے ،حکمنامہ کے مطابق عدالت نے رجسٹرار آفس کے درخواست کے ناقابل سماعت ہونے کے اعتراضات کوبرقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔