عدالتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں،تجزیہ کار

09 نومبر ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق نے اپنے پینل کے سامنے سوال رکھا کہ حکومت نے ستائیسویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا ستائیسویں آئینی ترمیم پر تجزیہ کار یحییٰ فریدی، ریما عمر، فخر درانی اور سید محمد علی نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ گیلپ سروے کے مطابق پاکستان کی جوڈیشری 160 ممالک میں 147ویں نمبر پر ہے اور عوام کا اس پر اعتماد ایک فیصد سے بھی کم ہے جس سے واضح ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ دنیا کے 77 ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں، جن میں فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں۔ اگر وہ آئینی عدالتوں کو ضروری سمجھتے ہیں تو پاکستان میں اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ یورپ سمیت کئی ممالک میں آئینی عدالتیں اس لئے قائم کی گئیں کہ وہاں سپریم کورٹ کے پاس جوڈیشل ریویو کا اختیار نہیں تھا اور پارلیمنٹ کی طاقت غیر محدود سمجھی جاتی تھی۔ ان عدالتوں کو نئی آئینی اختیارات دیے گئے جو پہلے سپریم کورٹ کے پاس موجود نہیں تھے۔ تاہم پاکستان میں صورت مختلف ہے کیونکہ ہماری سپریم کورٹ خود آئینی عدالت ہے جس کے پاس جوڈیشل ریویو کا اختیار پہلے سے موجود ہے۔ چھبیسویں ترمیم کے موقع پر بھی یہی بحث اٹھائی گئی تھی کہ حکومت نے ایک سال میں ایسا کیا محسوس کیا جس کے باعث نئی آئینی عدالت کی ضرورت پیش آئی۔ اگر مسئلہ ججز کی کمی کا تھا تو تعداد دگنی کر کے آئینی ماہرین کو شامل کیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہیں ہوا اور 34 ججز کی تعداد بھی پوری نہیں کی گئی۔ ماہرین کے مطابق عوام کا عدلیہ سے عدم اعتماد اپنی جگہ مگر اسے جواز بنا کر عدلیہ کو مٹھی میں لینا خطرناک رجحان ہے۔